انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی تنظیموں کے کئی ماہ کے اصرار کے باوجود اسرائیل نے رفح راہداری کو کھولنا قبول نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے جنگ بندی ہونے کے بعد بھی خوراک اور بنیادی انسانی ضروریات سے متعلق چیزوں کی ترسیل بھی انتہائی مشکل رہی ہے۔ تاہم اب اسرائیل نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر اپنی حکمت عملی کے تحت رفح راہداری کو جزوی طور پر کھولنا قبول کر لیا ہے۔
ظاہرا یہ کہا جا رہا ہے یہ پیش رفت امریکہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے جس پر اسرائیل کو بمشکل قائل کیا گیا ہے۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت غزہ سے فلسطینیوں کا 'رضاکارانہ' انخلا آسان کر لیا جائے گا۔
اسرائیلی حکام کے حوالے سے اب تک آنے والی اطلاعات کے مطابق رفح راہداری کا کھلنا محدود حد تک ہوگا اور یہاں سے لوگوں کی آمد و رفت پر بھی کئی چیک موجود ہوں گے۔
اسرائیل کی طرف سے رفح راہداری کے جزوی کھلنے کے اشارے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جبکہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے کے باوجود غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ اسرائیلی فوج نے جاری رکھا ہوا ہے۔
ہفتہ کے روز اسرائیلی فوج نے ان خلاف ورزیوں کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ وہ یہ کارروائیاں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں روکنے کے لیے کر رہی ہے۔
خیال رہے رفح راہداری غزہ میں داخلے کے لیے سب سے اہم راہداری ہے جس پر اسرائیلی فوج نے مئی 2024 میں قبضہ کیا تھا اور اس کو اب تک بند رکھا ہوا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج کا یہی کہنا رہا ہے کہ وہ غزہ میں قید اپنے آخری قیدی کی باقیات ملنے تک رفح راہداری نہیں کھولے گی۔
تاہم اب آخری قیدی ران گویلی کی باقیات بھی غزہ سے اسرائیل پہنچا دی گئی ہیں جس کے تقریباً ایک ہفتے بعد یہ اطلاعات سامنے آنا شروع ہوئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امکان ہے کہ یکم فروری سے رفح راہداری سے محدود آمد و رفت شروع ہوجائے گی اور اس کی نگرانی اسرائیلی فوج کے سول ادارے کوگیٹ کے سپرد ہوگی۔
راہداری سے آنے جانے کے لیے مصر کے ساتھ رابطہ کاری کی جائے گی اور صرف ان لوگوں کو رفح راہداری استعمال کرنے کی اجازت ہوگی جن کی سیکیورٹی کلیئرنس اسرائیل دے گا۔ جبکہ رفح راہداری پر یورپی یونین کی مانیٹرنگ ٹیمیں بھی کام کر رہی ہوں گی جو آنے جانے والوں کی مکمل مانیٹرنگ کا بندوست کرے گی۔
تاہم ابھی تک رفح راہداری کے بارے میں کلیدی نوعیت کی چیزیں واضح نہیں ہوئی ہیں کہ اس سے ہر روز کتنے لوگ گزر سکیں گے اور کتنے لوگوں کو راہداری سے غزہ میں داخلے کی اجازت ہوگی۔
ایک ذریعے نے 'اے ایف پی' کو اتوار کے روز بتایا کہ لاجسٹکس سے متعلق زیادہ تر تیاریاں کر لی گئی ہیں اور امکان ہے کہ اتوار کے روز سے راہداری کھل جائے گی۔ اس راہداری کے کھلنے سے متعلق تین مختلف ذرائع کا کہنا کے کہ راہداری پیر کے روز سے ہی باقاعدہ کھل سکے گی۔ تاہم ابھی تک انتظامات میں یہ بات واضح نہیں ہو رہی کہ غزہ میں داخل ہونے کے لیے کتنے لوگوں کو اجازت ہوگی اور کتنوں کو باہر جانے کی اجازت ہوگی۔
33 سالہ محمد شامیہ نے کہا کہ ہر گزرنے والا دن میری حالت کو بری طرح خراب کر رہا ہے کہ میں گردوں کے ڈائیلاسز کے لیے غزہ سے باہر جانا چاہتا ہوں لیکن راستے بند ہوںے کی وجہ سے میں منتظر ہوں کہ کب راہداری کھلے اور مجھے علاج کے لیے جانے کی اجازت ہو۔
بےتابی سے انتظار
18 سالی صفا الحوارجی بھی اتوار کے روز راہداری کے کھلنے کا بےتابی سے انتظار کر رہی ہے۔ صفا نے کہا مجھے امید ہے کہ یہ راہداری جلدی کھلے گی اور مجھے باہر جانے کی اجازت ملے گی اور میں اپنی تعلیم کا خواب پورا کر سکوں گی۔
حماس کا مطالبہ ہے کہ رفح راہداری کو ہر طرح کی آمد و رفت کے لیے کھولا جائے۔ حماس کا یہ مطالبہ آخری اسرائیلی قیدی کی باقیات اسرائیل بھجوانے کے بعد بھی سامنے آیا ہے۔
رفح راہداری کھلنے کے بعد توقع کی جا رہی کہ ان 15 ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کمیٹی کے ارکان کو بھی غزہ داخل ہونے کی سہولت ملے ھی جنہیں 'نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریٹن آف غزہ' (این سی اے جی) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی غزہ کے روزمرہ کے کام کو دیکھے گی اور صدر ٹرمپ کے زیر صدارت کام کرنے والی کمیٹی کے ماتحت ہوگی۔ اس کی سربراہی فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیر علی شاس کریں گے۔ جو رفح راہداری کھلنے کے بعد غزہ آسکیں گے۔
راہداری کھلنے سے پہلے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری
اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہفتہ کے روز کم از کم 32 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار غزہ میں کام کرنے والے شہری دفاع سے متعلق ادارے نے رپورٹ کیے ہیں جو ریسکیو اور بچاؤ کا کام کرتا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز پیش آنے والے ایک واقعے کے ردعمل میں یہ کارروائی کی گئی ہے۔