عراقچی اور وٹکوف مسقط میں ... تہران "سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ" مذاکرات کا خواہاں
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا ایران کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے یا نہیں
ایران نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ واشنگٹن اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے جمعہ کو سلطنت عمان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران "سنجیدگی" کا مظاہرہ کرے گا، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل فوجی آپشن کے استعمال کا اشارہ دے رہے ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ میں لکھا "خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام سفارتی مواقع سے فائدہ اٹھانا ہماری (ایرانی حکومت کی) ذمے داری ہے"۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکی فریق بھی ان مذاکرات میں "ذمے داری، حقیقت پسندی اور سنجیدگی" کے ساتھ شرکت کرے گا۔
اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں شرکت کے لیے مسقط روانہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ان مذاکرات میں "جوہری مسئلے پر فریقین کے لیے منصفانہ اور قابل قبول مفاہمت تک پہنچنے کے مقصد کے ساتھ" شرکت کرے گا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی "ارنا" نے ایرانی وزیر خارجہ کی سلطنت عمان آمد کی تصدیق کر دی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے آئندہ ہونے والے مذاکرات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر صحافیوں کو بتایا کہ "دنیا کے ممالک کے ساتھ معاملات طے کرنے کی بات ہو، خواہ وہ ہمارے اتحادی ہوں یا دشمن، سفارت کاری ہمیشہ صدر کا پہلا انتخاب ہوتی ہے"۔
انہوں نے ایرانی جوہری صلاحیتوں کو مکمل طور پر روکنے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف کی توثیق کی۔
کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ "یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے یا نہیں ... اور ان مذاکرات کے دوران، میں ایرانی حکومت کو یاد دلانا چاہتی ہوں کہ دنیا کی تاریخ کی طاقت ور ترین فوج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے صدر کے پاس سفارت کاری کے علاوہ بھی کئی آپشن موجود ہیں"۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خبر رساں ایجنسی "ٹاس" نے فضائی ٹریفک کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا طیارہ سلطنت عمان میں اتر چکا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہل کار نے جرمن خبر رساں ایجنسی (ڈی پی اے) کو تصدیق کی ہے کہ اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
ابھی تک مذاکرات کے ایجنڈے کو درست طور پر ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔
دونوں اطراف کے حکام نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران نے جمعہ کو عمان میں مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں کے درمیان اس بات پر اختلاف برقرار ہے کہ واشنگٹن ان مذاکرات میں تہران کے میزائل پروگرام کو شامل کرنے پر بضد ہے جبکہ ایران کا عزم ہے کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر بات کرے گا۔
یہ سفارتی کوششیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جانب سے اپنی افواج کی کمک بڑھانے کے باعث تناؤ عروج پر ہے۔ علاقائی فریقین ایک ایسے فوجی تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ وہ ایک وسیع تر جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔