ایک ہفتے کے دوران اقامہ اور لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے 20237 افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب کے تمام صوبوں میں اقامہ، لیبر قوانین اور سرحدی سکیورٹی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف چلائی گئی مشترکہ میدانی مہم کے دوران خلاف ورزیوں کے 20,237 مرتکب افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں اقامہ قوانین کے 12687، سرحدی سکیورٹی قانون کے 4318 اور لیبر قانون کے 3232 خلاف ورزی کرنے والے شامل ہیں۔ یہ مہم 29 جنوری 2026ء سے 4 فروری 2026ء کے درمیان چلائی گئی۔

سرحد عبور کر کے غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 1,555 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں 40% یمنی، 57% ایتھوپیائی اور 3% دیگر شہریتوں کے حامل افراد تھے۔ اس کے علاوہ 61 افراد کو غیر قانونی طریقے سے سرحد عبور کر کے ملک سے باہر جانے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ اسی تناظر میں، مخالفین کو نقل و حمل، پناہ اور روزگار فراہم کرنے اور ان کی پردہ پوشی کرنے میں ملوث 32 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ اس وقت مجموعی طور پر 23807 تارکینِ وطن قانونی کارروائی کی زد میں ہیں، جن میں 21926 مرد اور 1881 خواتین شامل ہیں۔ سفری دستاویزات کے حصول کے لیے 16805 مخالفین کو ان کے متعلقہ سفارتی مشنوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، 2437 کو سفری بکنگ مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے جبکہ 11656 مخالفین کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جو کوئی بھی سرحدی سکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے سعودی عرب میں داخلے میں سہولت کاری کرے گا۔ انہیں ملک کے اندر نقل و حمل یا رہائش فراہم کرے گا یا کسی بھی شکل میں ان کی مدد کرے گا، اسے 15 سال تک قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ملوث گاڑی اور پناہ کے لیے استعمال ہونے والے گھر کو ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ اس شخص کی تشہیر (بدنامی) بھی کی جائے گی۔ وزارت نے واضح کیا کہ یہ ایک سنگین جرم ہے جو گرفتاری کا موجب اور عزت و امانت کے خلاف ہے، اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں (911) اور سعودی عرب کے دیگر صوبوں میں (999) یا (996) پر کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں