سعودی "فلائی ناس" اور شامی سول ایوی ایشن کے درمیان مشترکہ فضائی کمپنی کا قیام

سعودی وزیر سرمایہ کاری کے مطابق نئی مشترکہ فضائی کمپنی کا نام "ناس سوریا" ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب اور شام نے آج ہفتے کے روز سعودی "فلائی ناس" اور شامی سول ایوی ایشن کے درمیان ایک مشترکہ فضائی کمپنی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے بتایا کہ اس نئی مشترکہ فضائی کمپنی کا نام "ناس سوریا" ہو گا۔

آج سعودی کمپنیوں اور شامی سرکاری اداروں کے درمیان 5 تزویراتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں نئی فضائی کمپنی کا قیام بھی شامل ہے۔

ان معاہدوں میں "ایلاف فنڈ" اور شامی سول ایوی ایشن کے درمیان حلب کے دو ہوائی اڈوں کی ترقی اور انہیں فعال بنانے کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

اسی طرح "فلائی ناس" اور شامی سول ایوی ایشن کے درمیان مشترکہ ایئر لائن کے قیام کے علاوہ "رياض کیبلز" اور شامی خود مختار فنڈ کے درمیان شامی کیبل کمپنی کی ترقی کے لیے بھی ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

اعلان کردہ معاہدوں میں سعودی کمپنیوں "ایکوا پاور" اور "نقل المياه" کے ذریعے شام میں پانی کی صفائی اور پانی کی منتقلی کے منصوبوں کی ترقی کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

شامی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے سربراہ نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے یہ معاہدے انفراسٹرکچر کی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان معاہدوں سے شامی شہریوں کو فائدہ پہنچے گا۔

سعودی عرب کا ایک وفد وزیر سرمایہ کاری کی سربراہی میں شامی دارالحکومت دمشق پہنچا ہے۔ اس سرکاری دورے کا مقصد مملکت اور شام کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری کے تعاون کو فروغ دینا اور دو طرفہ شراکت داری کو مشترکہ منصوبوں کی عملی تکمیل کی طرف لے جانا ہے۔

یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری کے راستے کو سہارا دینے، ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے اور اقتصادی انضمام کے لیے ایک پائیدار راستہ تیار کرنے کے فریم ورک کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد مشترکہ مفادات کا تحفظ ہو اور مستقبل کے ترقیاتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

دورے کے دوران اعلیٰ سطح کے سرکاری اجلاس منعقد ہوں گے جن میں سرمایہ کاری کے تعاون کے امکانات، مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد کے طریقوں اور معیاری سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ دورہ سعودی عرب اور شام کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے ایک جدید مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ گذشتہ سال منعقد ہونے والی ملاقاتوں اور فورموں کا تسلسل ہے۔ اس کے نتیجے میں باہمی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور اہم شعبوں میں مشترکہ کام کے طریقہ کار کو فعال کرنے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے۔ یہ مسلسل کوششیں اقتصادی ترقی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہیں تاکہ آنے والے مرحلے میں مشترکہ اقتصادی انضمام کو مزید گہرا کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں