امریکہ کے ساتھ ہماری بات چیت ایک مثبت قدم ہے اورہم کسی بھی دھمکی کو مسترد کرتے ہیں:بزشکیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ جمعہ مسقط میں ہونے والے امریکی۔ایرانی مذاکرات کو اچھا قرار دیے جانے کے بعد ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے کہا ہے کہ ''ایرانی عوام احترام کا جواب احترام سے دیتے ہیں اور طاقت کی زبان میں دی جانے والی دھمکیوں کو قبول نہیں کرتے ''۔

بزشکیان نے آج اتوار کو تہران میں ایک فورم سے خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاملے پر امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ایک قدم آگے کی جانب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مکالمہ ہمیشہ سے تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے ایران کی حکمتِ عملی رہا ہے۔مزید یہ کہ انہوں نے واضح کیا کہ جوہری امور سے متعلق ایران کا مؤقف عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں درج حقوق پر مبنی ہے۔

یورینیم کی افزودگی

اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ''کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران سے یورینیم کی افزودگی صفر کرنے کا مطالبہ کرے ''۔

انہوں نے زور دیا کہ تہران یورینیم کی افزودگی پر اصرار کرتا ہے کیونکہ کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ایران کو یہ بتائے کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔

عراقچی نے آج دیے گئے بیانات میں کہا: انہوں نے ہماری جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، لیکن کوئی نتیجہ حاصل نہ کر سکے، اب ان کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ افزودگی ایران کے لیے نہایت اہم ہے اور مزید کہا: ہم افزودگی کی سطح سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسی طرح انہوں نے کہا کہ 2005 کے مذاکرات اور موجودہ مذاکرات کے درمیان فرق یہ ہے کہ اب خطے کے ممالک کی واضح موجودگی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات مثبت نتائج کے حصول میں رکاوٹ نہیں بنتے۔

وٹکوف اور عراقچی (اے ایف پی)
وٹکوف اور عراقچی (اے ایف پی)

مثبت فضا

یاد رہے کہ امریکی وفد جس کی قیادت مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے تھے، اور صدر کے داماد جیرڈ کوشنر بھی اس میں شامل تھے، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ہاتھ میں تھی۔

دونوں وفود نے ہفتے کے روز جمعہ کو سلطنتِ عمان میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کو مثبت قرار دیا تھا۔آئندہ چند دنوں میں دوسرے دور کے مذاکرات متوقع ہیں، جن میں ایرانی جوہری پروگرام پر مزید گفتگو کی جائے گی۔

اس دوران اگرچہ امریکی صدر نے مذاکرات کے ماحول کی تعریف کی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران اپنے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے تک نہ پہنچا تو "نتائج سنگین ہوں گے"۔

دوسری جانب عراقچی اس سے قبل اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ افزودگی ایک ایسا حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تہران یورینیم کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کی مخالفت کرتا ہے، یہ تجویز ماضی کے مذاکرات میں کئی بار سامنے آ چکی ہے۔

ادھر اسرائیل نے ان مذاکرات کو بے نتیجہ قرار دیا، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، جو آئندہ بدھ کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے، نے مطالبہ کیا ہے کہ جوہری معاملے کے ساتھ ساتھ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادیوں پر بھی بات کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں