برطانوی شہزادہ ولیم سعودی عرب کے اولین سرکاری دورے کا آغاز پیر کے روز میزبان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ایک ملاقات کے ساتھ کر رہے ہیں جیسا کہ لندن خلیجی ملک سے معاشی تعاون مضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔
یہ دورہ اس وقت سامنے آیا ہے جب جیفری ایپسٹین فائلز کے روزانہ انکشافات سے شاہ چارلس سوئم کے چھوٹے بھائی اور بدنام سابق شہزادہ اینڈریو مسلسل دباؤ میں ہیں۔
سعودی ولی عہد شہزادہ پیر کے اواخر میں برطانوی تخت کے وارث ولیم کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقام الطریف کا ایک نجی دورہ کروائیں گے جس کے بعد ایک سیشن سامعین ساتھ ہو گا۔
تین روزہ دورے کا مقصد ہے کہ دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کی ایک صدی مکمل ہونے سے پہلے "تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری میں بڑھتے ہوئے تعلقات" کو اعزاز بخشا جائے۔
شہزادہ ولیم جو ایک شوقین ماہرِ ماحولیات ہیں، تاریخی شہر العلا کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ جنگلی حیات اور منفرد اراضی کی حفاظت کے لئے تحفظ کی کوششوں کے بارے میں جانیں گے۔
سعودی اور برطانوی شاہی خاندانوں کے مابین طویل عرصے سے ایک گرمجوش رشتہ موجود ہے اور سعودی عرب کو خلیج میں برطانیہ کا ایک اہم ترین تزویری و فوجی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم نے چار ریاستی دوروں پر سعودی شاہی شخصیات کی میزبانی کی جو فرانس اور جرمنی جیسے دوسرے کلیدی اتحادیوں کے برابر تھی۔
شہزادہ اینڈریو سے علیحدگی توجہ کا مرکز
شاہی تبصرہ کار رچرڈ فٹزولیمز نے کہا کہ حکومت ولیم کی سفارتی صلاحیتیں بروئے کار لانے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے 2024 میں پیرس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کی تھی۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "جب بات سفارتی میدان کی ہو جو بہت اہم ہوتا ہے تو وہ بہت مہارت کے حامل ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ شاہی خاندان کو امید ہے کہ اس دورے سے گذشتہ ہفتے ایپسٹین سے منسلک انکشافات سے توجہ دوسری طرف منتقل ہو گی۔
فٹزولیمز نے کہا کہ بدترین بات یہ ہو گی کہ "اگر اس دورے کے دوران بدقسمتی سے کوئی ایسی تصویر جاری ہو جائے جو میڈیا کی کشش کا باعث ہو"۔
انہوں نے مزید کہا، "یہ خدشہ ہمیشہ رہتا ہے کہ موجودہ خبریں کافی عرصہ پہلے طے شدہ شاہی سرگرمیاں ختم کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔"
ریاض کا باضابطہ دورہ کرنے والی آخری سینئر شاہی شخصیت ولیم کے والد اور موجودہ بادشاہ چارلس سوئم تھے جب وہ فروری 2014 میں پرنس آف ویلز تھے۔
برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیر سٹارمر نے دسمبر 2024 میں ریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔
دونوں ممالک کے مابین 30 جون 2025 تک سامان اور خدمات کے شعبوں میں 17.2 بلین ڈالر (23.1 بلین بلین ڈالر) کی تجارت تھی۔
-
ڈیجیٹل اسکرینوں کا بڑھتا استعمال سعودی معاشرے میں آنکھوں کی خشکی میں اضافہ کرنے لگا
ایک حالیہ سعودی قومی تحقیق میں مملکت میں آنکھوں کی خشکی (جفافِ چشم) کی شرح میں ...
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی پبلک فنڈ شعبوں کی تشکیل اور مواقع کی فراہمی کےبعد ترقی کوتیزکرنےکی طرف بڑھےگا:گورنر
یاسر الرمیان نے انکشاف کیا کہ 2020 سے 2024 کے دوران مقامی مواد پر اخراجات بڑھا کر ...
مشرق وسطی -
شاہ سلمان کی سرپرستی میں "سعودی کپ 2026" کا آغاز ... دنیا کی مہنگی ترین گھڑ دوڑ
سعودی عرب میں گھڑ دوڑ کے سب سے بڑے مقابلے (Saudi Cup) کے ساتویں ایڈیشن کا آغاز ...
مشرق وسطی