مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضے کی کوششیں ناقابل قبول: پاکستان سمیت مسلمان ممالک کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں توسیع پسندانہ عزائم اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی کوششوں کے خلاف عالم اسلام نے سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکیہ کے وزراء خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے، بستیوں کی تعمیر کو مستحکم کرنے اور نیا قانونی و انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے کے اسرائیلی اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ان ممالک کے وزراء خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کے یہ تمام اقدامات سراسر غیر قانونی ہیں جن کا مقصد مغربی کنارے کا زبردستی الحاق کرنا اور فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے بے دخل کر کے جبری ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔ وزراء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری تسلیم نہیں کی جائے گی۔

عالم اسلام کے نمائندہ ممالک نے خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی پر مبنی توسیع پسندانہ پالیسیاں خطے میں تشدد کی آگ کو بھڑکانے اور تنازعے کو مزید سنگین بنانے کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے ان اقدامات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ اور فلسطینی عوام کے اس جائز حق پر حملہ قرار دیا جس کے تحت وہ 4 جون 1967 کی حدود میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کے حق دار ہیں جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو۔

مذکورہ ممالک کے وزراء خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کے تمام اقدامات باطل اور کالعدم ہیں۔ یہ اقدامات سلامتی کونسل کی قراردادوں، بالخصوص قرارداد نمبر 2334 کی صریح خلاف ورزی ہیں جو مقبوضہ بیت المقدس سمیت 1967 سے زیر قبضہ علاقوں کی جغرافیائی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کی مذمت کرتی ہے۔

اعلامیے میں سنہ 2024 میں عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری کردہ مشاورتی رائے کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیاں اور طرز عمل غیر قانونی ہے، لہٰذا اس غاصبانہ قبضے کو فوری ختم کیا جائے اور زمینوں کے الحاق کو باطل قرار دیا جائے۔

وزراء خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور قابض اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں خطرناک اشتعال انگیزی روکنے پر مجبور کرے۔ انہوں نے بنجمن نیتن یاھو کی کابینہ کے وزراء، بشمول بزلئیل سموٹریچ اور ایتمار بن گویر کے اشتعال انگیز بیانات اور تحریکوں کا سدِباب کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

آخر میں وزراء نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی فراہمی، حق خودارادیت کی تسلیم اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے میں دیرپا اور جامع امن کا واحد راستہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں