امریکہ نے داعش کے 5700 قیدی شام سے عراق منتقل کردیے، 4253 عرب شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جمعرات کی رات آخری پرواز کے بعد داعش کے قیدیوں کی شمال مشرقی شام سے عراق منتقلی مکمل کر لی ہے۔

سینٹ کام نے ’’ ایکس ‘‘پر ایک بیان میں کہا کہ 23 روزہ منتقلی کا مشن 21 جنوری کو شروع ہوا تھا جس کے نتیجے میں امریکی افواج شام کے حراستی مراکز سے داعش کے 5700 سے زائد بالغ جنگجوؤں کو عراق کی تحویل میں منتقل کرنے میں کامیاب رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی اور اتحادی افواج نے مشترکہ ٹاسک فورس - آپریشن انہیرنٹ ریزولو کے فریم ورک کے تحت اس مشن کی منصوبہ بندی، ہم آہنگی اور عمل درآمد کی قیادت کی۔

4253 عرب شامل

دوسری جانب عراقی عدلیہ نے شام سے منتقل کیے گئے داعش کے 5704 ارکان کی وصولی کا اعلان کیا ہے جن میں 4253 عرب اور 983 غیر ملکی شامل ہیں۔ جوڈیشل کوآپریشن کے نیشنل سینٹر نے واضح کیا کہ داعش کے عراقی ارکان کی تعداد 467 ہے۔ شام سے آنے والے تنظیم کے ملزمان کے خلاف پوچھ گچھ کی کارروائیوں کے آغاز کا بھی اعلان کیا گیا۔

غیر معمولی کام

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے پوری مشترکہ فورسز کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا جس نے زمین اور فضا میں انتہائی توجہ، پیشہ ورانہ مہارت اور ہمارے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ نتیجہ خیز تعاون کے ساتھ اس انتہائی مشکل مشن کو انجام دیا۔ کوپر نے مزید کہا کہ ہم عراق کی قیادت اور ان کے اس ادراک کی قدر کرتے ہیں کہ زیر حراست افراد کی منتقلی علاقائی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اپنی طرف سے مشترکہ ٹاسک فورس کے کمانڈر میجر جنرل کیون لیمبرٹ نے کہا کہ اس منظم اور محفوظ منتقلی کے کامیاب عمل درآمد سے شام میں داعش کی واپسی کو روکنے میں مدد ملے گی۔ بیان کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے 2014 میں مشترکہ ٹاسک فورس - آپریشن انہیرنٹ ریزولو قائم کی تھی جس نے داعش کے خلاف جنگ میں شراکت دار افواج کو مشاورت، مدد اور تعاون فراہم کیا۔

2017 میں شکست

یاد رہے سینٹ کام نے گزشتہ ماہ شام سے عراق میں داعش کے قیدیوں کی منتقلی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ دہشت گرد محفوظ حراستی مراکز میں رہیں۔ داعش نے 2014 سے شمالی اور مغربی عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔ عراقی افواج بین الاقوامی اتحاد کے تعاون سے 2017 میں اسے شکست دینے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران عراقی عدالتوں نے دہشت گرد گروہ سے وابستگی اور قتل کے جرم میں سزا یافتہ افراد کے خلاف سزائے موت اور عمر قید کے فیصلے سنائے ہیں۔ عراق متعلقہ ملکوں سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو واپس لیں اور ان کے ٹرائل کو یقینی بنائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں