کبوتروں کے ساتھ ڈرونز بھی اڑنے لگے، بیروت کا آسمان تصادم کا میدان بن گیا

لبنان کی فضاؤں میں 7500 سے زائد اسرائیلی فضائی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بیروت کے ناہموار افق کے اوپر ابراہیم عمار کبوتر اڑانے کا اپنا موروثی شوق ( کیش الحمام ) پورا کر رہے ہیں، وہ پڑوسی چھتوں سے حریفوں کے پرندوں کو للچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے ان کے آباؤ اجداد دہائیوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ لیکن آج اس آسمان کا مالک صرف کبوتر ہی نہیں بلکہ ایک ایسا مشینی حریف بھی اس فضا میں داخل ہوگیا ہے جو کبھی غائب نہیں ہوتا۔ یہ فریق اسرائیلی ڈرونز ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی ڈرونز لبنان کے خلاف جاری فضائی مہم کا سب سے زیادہ حاضر اور فوری عنصر بن چکے ہیں۔ فیلڈ مانیٹرنگ کے مطابق ان کی یکساں مشینی گونج لبنانیوں کی زندگی کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات جیسے فون کالز، خاندانی نشستوں، کلاس رومز اور ساحلوں کی بیک گراؤنڈ میوزک بن چکی ہے۔

باسیوں نے اس آواز کو ایک دھاتی گونج قرار دیا ہے جو مچھروں کی بھنبھناہٹ جیسی ہے اورجو سماعت کے کنارے منڈلاتی رہتی ہے اور اسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ اس سے یہ احساس پختہ ہوتا ہے کہ جو جنگ ایک سال قبل باضابطہ طور پر جنگ بندی کے تحت ختم ہوئی تھی وہ حقیقت میں زمین پر ختم نہیں ہوئی۔

بین الاقوامی امن دستوں (یونیفل) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایک سال کے دوران 7,500 سے زائد فضائی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔ یہ خلاف ورزیاں کرنے میں ڈرونز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔ اگرچہ ان طیاروں کا اعلان کردہ مشن جاسوسی ہے لیکن لبنانی سکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے کئی مسلح ہیں اور درست نشانے پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج دارالحکومت کے اوپر مسلسل پروازوں کی وجوہات پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کو نظر انداز کرتی آرہی ہے اور صرف حزب اللہ کی ان فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کی طرف اشارہ کرتی ہے جنہیں وہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ تعمیر کرنے کا الزام لگاتی ہے۔

ام کامل: دہشت سے مزاح کے مواد تک

لبنانی عوامی حلقوں میں ان ڈرونز کو ایک مشہور لقب "ام کامل" دیا گیا ہے۔ یہ لقب اسرائیلی تکنیکی کوڈ "ایم کے" کے ساتھ لفظی ہیر پھیر کرکے بنایا گیا ہے۔ جہاں یہ طیارے نگرانی اور قتل کا ذریعہ ہیں، وہیں لبنانیوں نے انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سیاہ مزاح کا موضوع بنا دیا ہے تاکہ گھروں اور نجی زندگیوں کی مسلسل نگرانی سے پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کیا جا سکے۔

اس نفسیاتی دباؤ کے درمیان اس "پریشانی کے ذریعہ" کو اظہار کے آلے میں بدلنے کے انفرادی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں۔ موسیقار محمد شقیر نے ڈرون کی گونج کے 200 گھنٹے سے زیادہ کے ریکارڈز جمع کیے تاکہ انہیں موسیقی کے نمونوں میں ڈھال سکیں۔ انہوں نے اپنے کام کو شہر کا پیچھا کرنے والی اس آواز پر قابو پانے کے لیے ایک چھوٹی سی بغاوت قرار دیا۔

دوسری طرف بیروت کے ایک کلینک میں نفسیاتی ماہر نورا ساحلی بچوں پر اس کے گہرے اثرات کے بارے میں خبردار کرتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ لبنانی استقامت کی داستان ان دنوں ایک مشکل امتحان سے گزر رہی ہے جہاں رہائشی مستقل جسمانی الرٹ کی حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچے اب طیاروں کی آوازوں کو درست طور پر پہچاننے لگے ہیں۔ یہ چیز ان کی نارمل زندگی اور نفسیاتی علاج کے سیشنز میں خلل ڈالتی ہے۔

ابراہیم عمار بیروت کے آسمان میں اپنے کبوتر اڑاتے رہتے ہیں۔ اس دوران "ام کامل" ایک مستقل یاد دہانی بن کر موجود رہتی ہے کہ موجودہ سکون محض ایک مشینی نگران کی آنکھ کے نیچے ایک عارضی وقفہ ہے۔ یہ ایک ایسے شہر میں ہو رہا ہے جہاں کے باسی خوف کے آگے جھکنے سے انکار کرتے ہیں لیکن گونج کو نظر انداز کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں