اکتوبر حملے کی نئی تفصیلات: ’ایموجی‘ نے حملے کا اشارہ دے دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر سنہ 2023ء کو ہونے والے حملے میں شریک حماس کے تقریبا 3000 ارکان کو ایک خصوصی اسرائیلی فوجی عدالت میں پیش کرنے کی تیاریوں کے درمیان اسرائیلی ذرائع نے اس حملے کی نئی تفصیلات بے نقاب کی ہیں۔

اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف ہوا ہے کہ حماس نے اپنے ارکان کے فون پر ’ایموجیز‘ ( تعبیری علامت) کی ایک سیریز بھیجی تھی جو اس حملے کی تیاری کا ایک خفیہ اشارہ تھا جس نے غزہ کی پٹی پر تباہ کن اسرائیلی جنگ کو جنم دیا۔

معلومات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ان ایموجیز کا استعمال حماس کی نام نہاد ’ ایلیٹ فورس‘ کے ارکان کو یہ اطلاع دینے کے لیے کیا گیا تھا کہ وہ اپنے فون میں اسرائیلی سم کارڈ ڈال لیں تاکہ انہیں غزہ کی سرحد کے قریبی علاقوں (غلاف غزہ) میں استعمال کیا جا سکے، مقررہ مقامات پر جمع ہوں اور اپنے ہتھیاروں کے ساتھ حملے کے لیے تیار ہو جائیں۔

کئی سم کارڈز کا فعال ہونا

چھ اکتوبر سنہ 2023ء کی رات نو بجے اسرائیلی سکیورٹی سروس (شاباک) نے حماس کے ارکان کی جانب سے کئی اسرائیلی سم کارڈز کے فعال ہونے کا سراغ لگایا۔ شاباک کی جانب سے ان سم کارڈز کی نگرانی کی گئی اور پھر فوج کے انٹیلی جنس اداروں کو اس معاملے سے آگاہ کیا گیا۔

بعد ازاں اسی رات مزید سم کارڈز فعال کیے گئے جن کی تعداد کئی درجن تک پہنچ گئی۔

اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق اسرائیلی فوج نے سات اکتوبر کو حماس کے ارکان سے قبضے میں لیے گئے فونز پر ایموجیز کی وہی سیریز دیکھی جو اس سے قبل دو مواقع پر بھیجی گئی تھی جب تحریک نے مئی سنہ 2023ء اور ستمبر سنہ 2022ء میں بڑے حملے کا ارادہ کیا تھا۔

شاباک نے مئی سنہ 2023ء میں بھی حماس کے ارکان کے پاس درجنوں اسرائیلی سم کارڈز فعال ہونے کا سراغ لگایا تھا تاہم اس وقت تحریک نے حملہ نہیں کیا تھا۔

اسرائیلی فوجی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملے کی اطلاع کے لیے ان ایموجیز کے استعمال کا پتہ محض گذشتہ واقعات کے تقابلی جائزے (رئیٹرو اسپیکٹو) سے چلا ہے، حملے کے اصل وقت پر اس کا ادراک نہیں ہو سکا تھا۔

3000 سے زائد افراد کا ٹرائل

یہ معلومات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسرائیل 7 اکتوبر کے حملوں کے ملزمان پر ایک خصوصی فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتا ہے، جیسا کہ پراسیکیوٹر جنرل گالی بہاراو میارا نے ذکر کیا ہے۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق حماس اور دیگر مسلح گروپوں کے 3000 سے زائد ارکان جنہوں نے اس حملے میں حصہ لیا تھا، اس عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں