عالمی سطح پر کھجور کی پیداوار میں پانچ عرب ممالک کا غلبہ، سعودی عرب اور تونس برآمدات میں
پیداوار میں مصر کا واضح فرق مگر برآمدی بندرگاہوں تک رسائی میں پیچھے
دنیا بھر میں کھجور کی صنعت اپنی توسیع جاری رکھے ہوئے ہے جس کی بنیادی وجہ صحت بخش غذا کی بڑھتی ہوئی طلب اور ایشیائی و یورپی منڈیوں میں کھپت میں اضافہ ہے۔ دوسری جانب عرب ممالک پیداوار کے حجم اور عالمی تجارت کے بڑے حصے پر کنٹرول کے حوالے سے اپنی قائدانہ حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
سنہ 2025ء اور سنہ 2026ء کے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ اب بھی کھجور کی صنعت کا دھڑکتا ہوا دل ہیں، جہاں مصر، سعودی عرب، الجزائر، ایران اور عراق دنیا کے بڑے پیدا کاروں کی فہرست میں مضبوطی سے موجود ہیں۔
مصر سب سے آگے اور عرب قیادت کا تسلسل
مصر سالانہ 1.9 ملین ٹن کی کل پیداوار کے ساتھ دنیا میں کھجور پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک قرار دیا گیا ہے۔ اسے مثالی آب و ہوا اور وسیع اراضی کی آباد کاری کے منصوبوں کے ساتھ صحرائی علاقوں میں کاشتکاری کی توسیع کا فائدہ حاصل ہے، جس نے اسے کئی دہائیوں سے مستقل زرعی استحکام فراہم کر رکھا ہے۔
’ورلڈ پاپولیشن ریویو 2026ء‘ کے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سعودی عرب تقریباً 1.6 ملین ٹن کی پیداوار کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جہاں القصیم اور مدینہ منورہ جیسے علاقوں میں کاشت کے رقبے اور آباد کاری کے پروگراموں میں تیزی سے توسیع ہو رہی ہے۔
الجزائر جو کہ اپنی اعلیٰ قدر والی کھجور ’دقلہ النور‘ کے لیے مشہور ہے، 1.3 ملین ٹن کی پیداوار کے ساتھ تیسرے نمبر پر برقرار ہے۔ ادھر ایران اور عراق کھجور کی صنعت کے تاریخی مرکز کے طور پر بالترتیب 1.0 ملین ٹن اور چھ لاکھ 35 ہزار ٹن کی پیداوار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان، سوڈان، عمان، تونس اور متحدہ عرب امارات کی پیداوار میں بھی نمایاں موجودگی دیکھی جا رہی ہے، جس سے دنیا کے 10 بڑے پروڈیوسروں کی فہرست مکمل ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا خطہ عالمی سطح پر کھجور کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔
برآمدات کا محاذ: سعودی عرب اور تونس عالمی منظر نامے پر نمایاں
عالمی پیداوار میں مصر کے سرفہرست ہونے کے باوجود برآمدات کا نقشہ بالکل مختلف ہے۔ ’ورلڈز ٹاپ ایکسپورٹس‘ کے سنہ 2024ء کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب دنیا میں کھجور برآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے، اس کے بعد تیونس، پھر اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور ایران کا نمبر آتا ہے۔ یہ پانچ ممالک مجموعی طور پر کھجور کی کل عالمی برآمدات کے 60.4 فیصد حصے پر قابض ہیں۔
یہ ڈھانچہ ظاہر کرتا ہے کہ زیادہ پیداواری قوت کا لازمی مطلب زیادہ برآمدی قوت نہیں ہے، کیونکہ مصر اور الجزائر جیسے ممالک بڑی حد تک مقامی طلب پر انحصار کرتے ہیں۔ دوسری طرف بعض ممالک زیادہ ترقی یافتہ صنعتی اور تجارتی نظام پر انحصار کرتے ہیں جو انہیں بین الاقوامی منڈیوں، بالخصوص یورپ اور جنوبی ایشیا میں اپنا حصہ بڑھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
سنہ 2024ء میں کھجور کی عالمی برآمدات کی مالیت تقریباً 2.63 بلین ڈالر رہی، جبکہ عالمی لاجسٹک چیلنجز کے باوجود یورپی اور ہندوستانی منڈیوں میں طلب میں مسلسل اضافہ تجارتی توسیع کی علامت ہے۔
پیداوار اور برآمدات کے درمیان خلیج
اعداد و شمار سب سے زیادہ پیداوار دینے والے اور سب سے زیادہ برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
مصر: پیداوار میں عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے، لیکن مقامی کھپت پر توجہ کی وجہ سے وہ پانچ بڑے برآمد کنندگان میں شامل نہیں ہے۔
الجزائر: پیداوار میں تیسرے نمبر پر ہے، لیکن لاجسٹک اور ڈھانچہ جاتی وجوہات کی بنا پر اسے یورپی منڈیوں میں سعودی عرب اور تیونس جیسے ممالک کا مقابلہ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
تیونس: بڑے پیدا کاروں میں شامل نہیں ہے، لیکن معیار اور منڈیوں کے تنوع کی بدولت برآمدات میں عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے۔
یہ خلیج فیصلہ سازوں کے لیے ویلیو چین کو بہتر بنانے کے مواقع کی اہم نشاندہی کرتی ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں پیداوار تو بہت زیادہ ہے لیکن برآمدی قدر محدود ہے۔
عالمی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی طلب
عالمی برآمدی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان، مراکش، متحدہ عرب امارات، فرانس اور ترکیہ درآمدات کی سب سے بڑی منڈیاں ہیں۔ یہ کھجور کی طلب میں وسیع جغرافیائی تنوع کی عکاسی کرتا ہے جو کہ غذائی عادات، ثقافت اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری سے جڑا ہوا ہے۔
کھجور کو معدنیات اور قدرتی شکر سے بھرپور ایک صحت بخش مصنوعات کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان بھی ابھر رہا ہے، جس سے ان ممالک کی مسابقت بڑھ رہی ہے جو مختلف اقسام، بہتر پیکنگ اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
-
کھجوروں کی اقسام اور رمضان میں کھانے کے لیے ماہرین کی تجاویز
بلا شبہ رمضان میں کھجور کی مانگ نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے، خاص طور پر عرب ممالک ...
مشرق وسطی -
قاہرہ کی فضاؤں میں پہلی بار ہزاروں ڈرونز کے ذریعے رمضان کا استقبال
مصری دارالحکومت کے آسمان پر اسماء الحسنیٰ کی ایمان پرور بہار
مشرق وسطی -
جوتوں کے ساتھ قفاطین کے بھی رمضان کے لیے شاندار اور جدید ڈیزائنز
رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی وہ خاندانی اجتماعات دوبارہ شروع ہو جاتے ہیں جہاں آرام دہ ...
بين الاقوامى