ٹرمپ کو ایران پر حملے کے کئی راستوں کے حوالے سے بریفنگ ... خطے میں 13 بحری جہاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

دو امریکی عہدے داران نے انگریزی ویب سائٹ axios کو بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بحران پر بحث کے لیے اپنے سینئر مشیروں سے ملاقات کی ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر کو دو روز قبل جنیوا میں ہونے والے ایٹمی مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا اور ایران کے حوالے سے اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دیگر امریکی حکام نے اشارہ دیا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ایسی صورت کے حوالے سے انھیں متدد فوجی راستوں کے بارے میں آگاہی دے دی گئی ہے۔

اسی دوران ایک امریکی عہدیدار نے ایرانیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ماہ کے آخر تک ایسے اقدامات کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس واپس آئیں جو جنیوا مذاکرات میں واشنگٹن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو دور کریں۔ ایک اور امریکی عہدے دار نے جنیوا مذاکرات کو "بے سود" قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف حملے کے لیے کئی دلائل موجود ہیں، لیکن تہران کے لیے امریکی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کرنا زیادہ دانش مندانہ ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ "معاہدے پر پیش رفت محدود ہے"۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران امریکہ کے ساتھ آئندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک کا مسودہ تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی سے گفتگو میں واضح کیا کہ ایران مستقبل کے مذاکرات کو ایک مربوط فریم ورک میں آگے بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو آئندہ ہفتے اسرائیل کا دورہ کریں گے جہاں وہ بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔ ان سفارتی سرگرمیوں کے باوجود فوجی تیاریاں جاری ہیں۔

ادھر ایران نے فضائی نیویگیشن نوٹس کے ذریعے ملک کے جنوبی حصوں میں میزائل داغنے کی منصوبہ بندی ظاہر کی ہے، جبکہ بحیرہ عمان میں روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشقیں بھی طے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران حزب اللہ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ تصادم میں حصہ لے، جبکہ حوثیوں اور دیگر اتحادیوں کی مداخلت کا بھی امکان ہے۔ سی این این کے مطابق اسرائیل نے فوجی الرٹ کی سطح بڑھا دی ہے اور خدشہ ہے کہ ایران پر حملہ آئندہ چند دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ تعاون سے ہو سکتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ 2003 کے عراق حملے کے بعد خطے میں سب سے بڑے پیمانے پر فضائی قوت اکٹھا کر رہا ہے۔ اس میں F-35، F-22 اور F-16 جیسے جدید لڑاکا طیارے اور دو بحری بیڑے شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ طاقت امریکہ کو محدود حملے کے بجائے ایران کے خلاف ہفتوں تک مسلسل فضائی جنگ جاری رکھنے کا آپشن فراہم کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں