خبر رساں ادارے "روئٹرز" نے آج منگل کے روز چھ با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران بحری جہاز شکن ... کروز میزائل خریدنے کے لیے چین کے ساتھ ایک معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں سے قبل اس کے ساحلوں کے قریب ایک بہت بڑی بحری فوج تعینات کر رہا ہے۔
مذاکرات سے با خبر ذرائع نے بتایا کہ یہ ڈیل چینی ساختہ "سی. ایم-302" میزائلوں سے متعلق ہے اور یہ مکمل ہونے کے قریب ہے۔ تاہم ابھی تک ان کی ترسیل کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔
آواز کی رفتار سے تیز (سپرسونک) ان میزائلوں کی رینج تقریباً 290 کلومیٹر ہے اور انہیں اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ تیز رفتاری اور سطح سمندر سے قریب پرواز کرتے ہوئے بحری دفاعی نظام کو چکمہ دے سکیں۔
اسلحے کے دو ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے میزائلوں کی تعیناتی ایران کی جارحانہ صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کر دے گی، جس سے خطے میں امریکی بحری افواج کے لیے خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
چھ ذرائع جن میں ایرانی حکومت کی جانب سے بریفنگ پانے والے تین حکام اور تین سکیورٹی حکام شامل ہیں، نے انکشاف کیا کہ ان میزائل سسٹمز کی خریداری کے لیے چین کے ساتھ مذاکرات کم از کم دو سال قبل شروع ہوئے تھے۔ تاہم گذشتہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد ان میں تیزی آئی۔
دو سکیورٹی حکام نے بتایا کہ اعلیٰ سطح کے ایرانی فوجی اور حکومتی حکام، جن میں ایرانی نائب وزیر دفاع بھی شامل تھے، گذشتہ موسم گرما میں مذاکرات کے حتمی مراحل میں داخل ہونے پر چین روانہ ہوئے تھے۔ نائب وزیر دفاع کے اس دورے کی خبر اس سے پہلے کبھی شائع نہیں ہوئی تھی۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کے سابق افسر اور انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز میں ایرانی امور کے محقق دانی سیٹرینووچ کا ماننا ہے کہ "ایران کا خطے میں بحری جہازوں پر آواز کی رفتار سے تیز میزائلوں سے حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لینا کھیل کے تمام قواعد (گیم چینجر) کو مکمل طور پر بدل دے گا۔ ان میزائلوں کو روکنا بہت مشکل ہے"۔
"روئٹرز" نے اس ممکنہ ڈیل میں میزائلوں کی تعداد یا اس رقم کا تعین نہیں کیا جس کی ادائیگی پر ایران نے اتفاق کیا ہے، اور نہ یہ واضح کیا ہے کہ آیا چین خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں اب اس معاہدے پر عمل درآمد کرے گا یا نہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے "روئٹرز" کو بتایا "ایران کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ فوجی اور سکیورٹی معاہدے موجود ہیں اور اب ان معاہدوں سے فائدہ اٹھانے کا بہترین وقت ہے"۔
یہ میزائل ان جدید ترین فوجی ساز و سامان میں سے ہیں جنہیں چین ایران کو منتقل کرے گا، جو اقوام متحدہ کی جانب سے 2006 میں پہلی بار لگائی گئی اسلحہ کی پابندی کے لیے ایک چیلنج ہے۔ یہ پابندیاں 2015 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کے فریم ورک کے تحت معطل کر دی گئی تھیں۔ اس کے بعد ستمبر 2025 میں انہیں دوبارہ نافذ کر دیا گیا ہے۔
-
ٹرمپ نے امریکی فوجی جنرل کے ایران جنگ کی مخالفت کرنے کی تردید کر دی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز "فیک نیوز میڈیا" کی ان خبروں کی تردید کی کہ اعلیٰ ...
بين الاقوامى -
ایران کشیدگی پر روبیو کا دورۂ اسرائیل میں 'تبدیلی کا امکان'
ایک امریکی اہلکار نے پیر کو کہا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اپنا دورۂ ...
مشرق وسطی -
ایران آج معاہدے کا مسودہ پیش کرے گا ... 3 عوامل امریکی حملے کا وقت متعین کریں گے
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج یمن سے لے کر لبنان تک پورے میدانِ جنگ میں تیاری کر رہی ...
مشرق وسطی