سعودی عرب: کھجور کے باغوں میں چھپا تاریخی شاہکار ‘قصر الفاخريہ‘عام وخاص کی توجہ کا مرکز

الاحساء میں منفرد طرز تعمیر اور دلکش خصوصیات کا حامل تاریخی ورثہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

سعودی عرب کے مشرقی علاقے الاحساء میں سرسبز و شاداب نخلستانوں کے درمیان اور "نہر الحقل" کے کنارے "قصر الفاخريہ" ایک ایسی تاریخی یادگار کے طور پر ایستادہ ہے جو سعودی ریاست کی تاریخ کے ایک اہم سنگ میل کا گواہ ہے۔ یہ محل اس وقت کے امیرِ الاحساء شہزادہ عبداللہ بن جلوی بن ترکی کی رہائش گاہ اور ان کے معزز مہمانوں کے استقبال کا مرکز ہوا کرتا تھا۔

الاحساء کے شہر الہفوف سے تقریباً سات کلومیٹر کے فاصلے پر "الفاخرية فارم" میں واقع یہ محل محض ایک رہائشی عمارت نہیں تھی، بلکہ اس دور میں مشرقی علاقے کے انتظامی امور کا مرکز بھی تھا جب الاحساء اس خطے کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا۔ اس محل نے کئی نامور عالمی شخصیات کی میزبانی کی، جن میں ملکہ وکٹوریہ کی پوتی شہزادی الیس بھی شامل تھیں جنہوں نے سنہ 1938ء میں یہاں کا دورہ کیا۔ یہ تاریخی دورہ اس عہد میں محل کی سیاسی اور سفارتی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

محل کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق اس کا رقبہ 500 مربع میٹر سے زائد ہے جبکہ اس کی بلندی 12 میٹر سے زیادہ ہے۔ یہ عمارت دو مرکزی منزلوں پر مشتمل ہے۔ پہلی منزل میں داخلی راستہ، تین برآمدے، ایک بڑا دیوان خانہ (ہال) اور ایک غسل خانہ موجود ہے۔ اس غسل خانے کا ڈیزائن نہایت سحر انگیز ہے جہاں ہندسی مہارت کے ذریعے "عین الحقل" سے نکلنے والی نہر کا پانی براہِ راست پہنچتا ہے۔ نچلی منزل میں ایک باورچی خانہ، کھجوروں کا گودام (جسے مقامی زبان میں الکندوج کہا جاتا ہے) اور شمالی جانب گھوڑوں کا اصطبل بنایا گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی نامہ نگار نے الاحساء کے ثقافتی ورثے اور قدیم نقوش کے ماہر سعید الوایل سےاس موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ادوار میں عالمی سطح کی اہم شخصیات کے دوروں سے اس محل کی اہمیت اور اس کے مالکان کے بلند سیاسی و سفارتی مرتبے کا اندازہ ہوتا ہے۔ الاحساء ہمیشہ سے دنیا بھر کے سرکاری اور سفارتی وفود کی میزبانی کرتا رہا ہے۔

سعید الوایل نے مزید بتایا کہ قصر الفاخريہ گاؤں "الحليلہ" اور الاحساء کے مشرقی دیہاتوں کی جانب جانے والے راستے پر واقع ہے۔ عثمانی آرکائیو کے ریکارڈ کے مطابق یہ علاقہ کسی زمانے میں "موازن" نامی گاؤں کی حدود میں شامل تھا اور ان شاہی اراضیات کا حصہ تھا جو سعودی ریاست کے قبضے میں آنے سے قبل عثمانی اقتدار کے تحت تھیں۔ بعد ازاں یہ شہزادہ عبداللہ بن جلوی کی ملکیت میں آگیا، جنہوں نے سنہ 1331 ھ سے سنہ 1354ھ تک الاحساء کی امارت سنبھالی۔ یہ مقام ان کی ذاتی آرام گاہ اور مہمانوں کے لیے جائے قیام کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔

محل کی تعمیراتی خصوصیات

سعید الوایل کے مطابق محل کا مرکزی دروازہ مغربی سمت میں واقع ہے جو کہ کافی بڑا ہے اور اسے پتھروں و مٹی سے بنا کر اوپر چونے (جپسم) کا لیپ کیا گیا ہے۔ محل کا ڈیزائن اونچے چوکور ستونوں کی قطاروں پر مبنی ہے جو نیم دائرہ محرابوں کے ذریعے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ یہ محرابیں اندرونی برآمدے کی چھت کو سہارا دیتی ہیں جو فارم کی جانب کھلتا ہے۔ اس برآمدے کے راستے محل کے مختلف حصوں بشمول سوئمنگ پول، کمروں، بالائی منزل کے دیوان خانے، کھجور کے گودام اور دیگر سہولیات تک جاتے ہیں۔ عمارت کے شمالی حصے میں کھجور کا گودام اور جنوبی جانب بیت الخلاء موجود ہے۔

جغرافیائی اہمیت اور عمرانی طرز

سعید الوایل نے اس بات پر زور دیا کہ الاحساء کے فارمز کے اندر تعمیر کی گئی یہ عمارتیں ایک منفرد تعمیراتی اسلوب کی نمائندگی کرتی ہیں جو خطے کی تاریخ اور تہذیبی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ قصر الفاخريہ اس طرز تعمیر کا ایک بہترین نمونہ ہے، جس کے ڈیزائن میں مقام کی قدرتی خوبصورتی سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ خاص طور پر اس کا سوئمنگ پول، جس کے اوپر سے نہر گزرتی ہے الاحساء کے روایتی تالابوں سے بالکل مختلف اور منفرد ہے۔

موجودہ صورتحال اور بحالی کی ضرورت

سعید الوایل نے گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ یہ محل طویل عرصے تک نظر انداز کیے جانے کے باعث گذشتہ چند برسوں میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اور اس کے بڑے حصے گر چکے ہیں۔ آج یہاں صرف کھنڈرات باقی ہیں اور اردگرد کا زرعی ماحول بھی بدل چکا ہے، تاہم اس کے جمالیاتی اثرات آج بھی برقرار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ الاحساء کے اس روایتی فن تعمیر کے شاہکار کی مرمت اور بحالی انتہائی ضروری ہے تاکہ اسے آنے والی نسلوں کے لیے ثقافتی اور سیاحتی مرکز کے طور پر دوبارہ فعال کیا جا سکے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ قصر الفاخريہ محض ایک پرانی عمارت نہیں بلکہ الاحساء کی اس تعمیراتی یادداشت کا حصہ ہے جو کھیتوں، آبپاشی کے نظام اور زرعی زندگی کے گرد پروان چڑھی۔ یہی وہ ماحول ہے جس کی بہ دولت الاحساء کو دنیا کے سب سے بڑے آباد نخلستان کے طور پر عالمی ثقافتی ورثے (ورلڈ ہیریٹیج) کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی یادگاروں کا مٹ جانا صرف عمارتوں کا نقصان نہیں بلکہ ان زندہ شواہد کا ضیاع ہے جو خطے کی سیاسی و سماجی تبدیلیوں کی کہانی سناتے ہیں۔ لہٰذا اس محل کے باقی ماندہ حصوں کو بچانا اور اسے دوبارہ آباد کرنا محض مرمت کا کام نہیں بلکہ الاحساء کی صدیوں پرانی شناخت اور تاریخ کو زندہ کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں