لبنان کا امریکہ کے زیرِ قیادت آئی ایم ای سی میں شمولیت میں دلچسپی کا اظہار

اقتصادی راہداری میں بھارت-شرقِ اوسط-یورپ شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

صدر جوزف عون سمیت لبنان کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس ہفتے امریکہ کے زیرِ قیادت بھارت-شرقِ اوسط-یورپ اقتصادی راہداری (آئی ایم ای سی) میں بیروت کی شمولیت کے امکان پر تبادلۂ خیال کیا۔

عون کے دفتر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے خصوصی ایلچی برائے آئی ایم ای سی سے ملاقات کے بعد ایک تصویر جاری کی۔ ایوانِ صدر کے مطابق گفتگو میں تجارتی روابط، بنیادی ڈھانچے، توانائی میں تعاون اور بھارت، علاقائی ممالک اور یورپ کے درمیان ڈیجیٹل روابط بہتر کرنے کے مقاصد پر توجہ مرکوز کی گئی۔ گفتگو میں جغرافیائی سیاسی حرکیات کی تبدیلی کے درمیان تجارتی راستوں کو متنوع اور اقتصادی لچک کو مضبوط بنانے کی کوششوں پر بھی توجہ دی گئی۔

ایوانِ صدر نے کہا کہ عون نے توثیق کی کہ لبنان اس اقدام میں ایسے طریقے سے شامل ہونے کے لیے تیار ہے "جو اس کے قومی مفادات کی تکمیل اور خطے میں اس کی لاجسٹک پوزیشن مضبوط کرے۔"

وزیرِ اعظم نواف سلام نے وفد سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔ ان کے دفتر نے کہا کہ لبنان کی دو اہم بندرگاہوں بیروت اور طرابلس کے راہداری کا حصہ بننے کا امکان گفتگو میں شامل تھا۔

سلام نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمسایہ بندرگاہوں سے بڑھتی ہوئی مسابقت کے ساتھ ساتھ علاقائی تجارتی حالات میں تیز رفتار تبدیلیوں سے راہداریوں میں لبنان کی شمولیت ایک تزویری موقع بھی بن جاتی ہے اور اقتصادی بحالی کے لیے ایک فوری ضرورت بھی۔"

سعودی عرب، امریکہ، یورپی یونین، بھارت، متحدہ عرب امارات، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے 2023 میں آئی ایم ای سی کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس اقدام کا مقصد ایشیا، خلیج اور یورپ کے درمیان روابط اور ہم آہنگی بہتر کر کے اقتصادی ترقی کو تحریک دینا ہے۔

آئی ایم ای سی کے دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہونے کی توقع ہے: ایک مشرقی راہداری جو بھارت کو خلیج سے ملائے اور دوسری خلیج کو یورپ سے ملانے والی شمالی راہداری۔ منصوبوں میں ایک ریلوے نیٹ ورک بھی شامل ہے جو جہاز سے ٹرین کا ایک قابلِ اعتماد اور سرمایہ کاری کے لحاظ سے مؤثر نظام فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور موجودہ سمندری اور سڑک کے راستوں کی تکمیل کرتا ہے۔ ایم او یو کے مطابق یہ نیٹ ورک بھارت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اردن، اسرائیل اور یورپ کے درمیان سامان اور خدمات کی نقل و حمل ممکن بنائے گا۔

یہ تاحال واضح نہیں ہے کہ لبنان جو تکنیکی طور پر اسرائیل کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے، راہداری میں کیسے حصہ لے گا۔ امریکی حکام اور بعض لبنانی رہنماؤں نے بیروت اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی وکالت کی ہے اگرچہ اس میں اہم سیاسی اور سکیورٹی رکاوٹیں باقی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں