امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو 20 فیصد تک بھی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جنیوا میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے ایک روز بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران سویلین مقاصد کے لیے بھی کسی قسم کی یورینیم افزودگی کرے۔
انہوں نے ریاست ٹیکساس کے ساحلی شہر کارپس کرسٹی میں ایک تقریب سے قبل مزید کہا کہ ایران اپنی دولت میں اضافہ کرنا چاہتا ہے لیکن اسے تیل کی اتنی بڑی مقدار کی ضرورت نہیں ہے۔
ساعة و47 دقيقة.. ترمب يلقي أطول خطاب عن حالة الاتحاد في تاريخ أميركا وسط هتافات من مقاعد الديمقراطيين وتصفيق جمهوري حاد pic.twitter.com/KEoLmMiQvo
— العربية (@AlArabiya) February 27, 2026
انہوں نے تہران پر الزام عائد کیا کہ وہ اس معاملے میں زیادہ سنجیدگی دکھانے کا خواہش مند نہیں ہے اور ان کے بقول یہ انتہائی افسوسناک امر ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر اپنے عدم اطمینان کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ کوئی افزودگی نہیں ہوگی۔ نہ 20 فیصد اور نہ ہی 30 فیصد۔ وہ ہمیشہ 20 یا 30 فیصد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سویلین مقاصد کے لیے ہے لیکن آپ جانتے ہیں کہ یہ سویلین مقاصد کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے بارہا دہرایا کہ وہ مذاکرات کی پیش رفت سے مطمئن نہیں ہیں۔
وسط أجواء إيجابية في محادثات النووي.. روبيو يزور نتنياهو بشأن إيران ولبنان وتطبيق خطة ترمب بغزة pic.twitter.com/w9vNUorAFL
— العربية (@AlArabiya) February 27, 2026
تاہم اس کے باوجود انہوں نے واضح کیا کہ وہ پرامن طریقے سے معاملات چلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایک اہم فیصلہ کیا جانا باقی ہے جو کہ آسان نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سلطنت عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم اپنے پاس نہ رکھنے پر رضامند ہو گیا ہے۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ سفارتی حل کا کوئی متبادل نہیں ہے اور تہران و واشنگٹن کے درمیان معاہدہ ممکن ہے۔
جنیوا میں مذاکرات کا تیسرا دور
یہ پیش رفت جمعرات کے روز جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد سامنے آئی ہے جسے جنگ سے بچنے کے آخری مواقع میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔
گذشتہ روز مذاکرات کے دوران 5 مطالبات پیش کیے گئے تھے جن میں تین جوہری مقامات فردو، نطنز اور اصفہان کی تباہی کے ساتھ ساتھ افزودہ یورینیم کی تمام مقدار امریکہ کے حوالے کرنا شامل تھا۔ اس کے علاوہ اس بات کی تاکید بھی کی گئی کہ یہ پابندیاں مستقل ہوں گی اور سنہ 2015ء میں ہونے والے جوہری معاہدے کے برعکس ان کی کوئی وقت کی حد نہیں ہوگی۔
مطالبات میں افزودگی کو مکمل طور پر روکنا بھی شامل ہے جبکہ تہران ری ایکٹر کو برقرار رکھنے کی اجازت اور خیر سگالی کے طور پر آغاز میں پابندیوں میں محدود کمی کی پیش کش کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اگر ایران امریکی شرائط پر عمل کرتا ہے تو پابندیوں میں مزید نرمی کی جائے گی۔
تاہم دونوں فریقین کے درمیان تین بڑے معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ پہلا یہ کہ کتنی فیصد افزودگی کی اجازت دی جائے گی، دوسرا 400 کلوگرام کے لگ بھگ موجود اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل کیا ہوگا اور تیسرا یہ کہ امریکی حکام ایران کی جوہری سرگرمیوں کی سخت نگرانی کے لیے ایک موثر طریقہ کار وضع کرنے پر بضد ہیں۔
دوسری جانب تہران نے اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے حوالے سے لچک دکھائی ہے اور آدھی مقدار ملک سے باہر بھیجنے کی تجویز پیش کی ہے بشرطیکہ بقیہ آدھی مقدار جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں رہے۔
ایرانی وفد نے ملک کے اندر افزودگی کی شرح کم کرنے پر بھی لچک کا اظہار کیا ہے لیکن ساتھ ہی پرامن مقاصد کے لیے افزودگی کے اپنے حق پر قائم رہنے کا بھی اعادہ کیا ہے۔
-
ٹرمپ کا حملوں پر غور، سی آئی اے نے ایران میں ممکنہ مخبروں کو رابطے کے طریقے بتا دیے
وی پی این، ڈسپوزیبل ڈیوائس یا ڈارک نیٹ کے ذریعے رسائی کی ہدایات
بين الاقوامى -
ایران کا مسئلہ ’سفارت کاری‘ سے حل کرنا چاہتے ہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ...
بين الاقوامى -
ایران کے معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ترجیح سفارت کاری ہے: وائٹ ہاؤس
امریکی صدر ضرورت پڑنے پر مہلک طاقت کے استعمال کے لیے بھی تیار ہیں
بين الاقوامى