اسرائیل کا قم میں ایرانی ’مجلس خبرگان کے ہیڈ کوارٹرپر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران میں اقتدار کے اعلیٰ ترین ستون کو نشانہ بناتے ہوئے اسرائیل نے قم میں مجلس خبرگان (ماہرین کی کونسل) کے صدر دفتر کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہ آئینی ادارہ ہے جسے ملک کے سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار حاصل ہے۔ اسرائیل کے مطابق اس کارروائی کا مقصد گذشتہ سپریم لیڈر کے جانشین کی تقرری کے عمل میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔

ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار نے بتایا کہ اسرائیلی فضائیہ نے منگل کے روز قم میں مجلس خبرگان کی عمارت پر بمباری کی۔ "ایکسیس" ویب سائٹ کے مطابق اس حملے کا مقصد نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کو روکنا تھا۔

ووٹوں کی گنتی کے دوران کارروائی

اسرائیلی اہلکار نے وضاحت کی کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب کونسل کے اندر ووٹوں کی گنتی جاری تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کے وقت 88 اراکین میں سے کتنے عمارت میں موجود تھے اور نہ ہی عمارت کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ہم انہیں نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے سے روکنا چاہتے تھے۔ واضح رہے کہ ایرانی نظام میں مجلس خبرگان ہی وہ ادارہ ہے جو سپریم لیڈر کا انتخاب کرتا ہے۔ اس کے علما اراکین ایک چھوٹی خفیہ کمیٹی کی تیار کردہ مختصر فہرست میں شامل امیدواروں کے لیے ووٹ دیتے ہیں۔

گذشتہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ہفتے کے روز اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں درجنوں سینیئر ایرانی رہنماؤں کے ہمراہ قتل کر دیا گیا تھا۔

دوسری جانب مجلس خبرگان کے رکن علی معلمی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ "ایسنا" نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ کونسل کے اراکین نے عہد کر رکھا ہے کہ وہ سپریم لیڈر کے انتخاب میں ذاتی پسند و ناپسند یا سیاسی دھڑے بندیوں کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔

گذشتہ چند دنوں کے دوران علی خامنہ ای کی جگہ لینے کے لیے کئی نام سامنے آئے ہیں جبکہ اس وقت ملک کے انتظامی امور ایک عبوری باڈی چلا رہی ہے جس میں صدر مسعود پزشکیان، چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی اور شوریٰ نگہبان کے رکن علی رضا اعرافی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں