لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کی فوجی سرگرمیوں پر پابندی کے اعلان کے صرف ایک روز بعد ہی خطے کی صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ سرکاری فیصلے کو نظرانداز کرتے ہوئے حزب اللہ نے منگل کے روز شمالی اسرائیل کی جانب ڈرونز بھیجنے کا اعلان کیا، جس کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔
حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے شمالی مقبوضہ فلسطین میں رامات ڈیوڈ ایئر بیس کے ریڈار مقامات اور کنٹرول رومز کی طرف خودکش ڈرونز کا ایک جھنڈ روانہ کیا ہے۔
اسی دوران العربیہ/الحدث کے نمائندے کے مطابق شمالی اسرائیل میں خطرے کے سائرن کی آوازیں سنی گئیں۔
ضاحیہ پر فضائی حملے
دوسری جانب اسرائیل نے جنوبی لبنان کے درجنوں قصبوں کو وارننگ جاری کرتے ہوئے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کا کہا۔
اس کے ساتھ ہی بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (ضاحیہ) میں حارہ حریک اور الحدث کے علاقوں پر فضائی حملے کیے گئے، جہاں سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
مزید برآں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں واقع حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار کے دفتر پر بھی آج علی الصبح اسرائیلی حملہ کیا گیا۔
گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں، جب اس سے پوچھا گیا کہ آیا اسرائیل اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
فوج نے یہ بھی کہا کہ اس نے ''القرض الحسن'' نامی مالیاتی ادارے کے اثاثوں کو نشانہ بنایا، جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہے اور جس پر حزب اللہ کی سرگرمیوں کی مالی معاونت کا الزام ہے۔
یہ ڈرامائی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب حزب اللہ نے دو روز قبل ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کا "انتقام" لینے کے لیے اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے تھے۔
اس اقدام نے لبنان میں وسیع پیمانے پر ناراضی اور غصہ پیدا کیا، کیونکہ جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات اب بھی 7 اکتوبر 2023 کو حماس اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ میں حزب اللہ کی شمولیت کے باعث تباہ حال ہیں۔
یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان تقریباً دو سال تک جاری خونریز جھڑپوں کے بعد نومبر 2024 میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے نتیجے میں جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور حزب اللہ کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
بعد ازاں لبنانی حکومت نے ملک بھر میں غیر قانونی اسلحہ محدود کرنے اور جنوبی علاقوں میں فوج کی تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا۔