بیروت میں امریکی سفارتخانے کو منگل کے روز بند کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ لبنان میں عسکری ملیشیا حزب اللہ بھی ایران کی حمایت میں راکٹوں اور میزائلوں کے ساتھ ایک بار پھر میدان میں اتر آئی ہے۔
امریکی سفارتخانے کی بندش کا اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے یہ فیصلہ علاقے میں جاری کشیدگی کے باعث کیا گیا ہے۔
اعلان میں یہ تعین نہیں کیا گیا کہ سفارتخانہ کتنے دن تک بند رہے گا۔ البتہ یہ بتایا گیا ہے کہ جب سفارتخانہ کھولا جائے گا تو اس سلسلے میں اطلاع کر دی جائے گی۔
اتوار کی رات سے حزب اللہ ایک بار پھر اپنے کیل کانٹے کے ساتھ ایرانی حمایت کے لیے میدان میں آگئی ہے۔ اس کی طرف سے یہ فیصلہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کیا گیا ہے۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 27 نومبر 2024 کو ہوا تھا۔ جس میں امریکہ و فرانس نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد حزب اللہ نے اس جنگ بندی معاہدے کو ٹوٹا ہوا تصور کر لیا ہے۔
دریں اثناء لبنان حکومت نے ایک غیر معمولی حکم نامہ جاری کیا ہے۔ جس کے تحت حزب اللہ کی فوجی و عسکری سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
لبنانی صدر نے کہا ہے یہ ضروری ہوگیا تھا۔ خاص طور پر اس وقت جب حزب اللہ نے اسرائیل کی پوزیشنوں پر حملے کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔