قطر نے ایران کی طرف سے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ اس کے حملوں کا نشانہ قطر اور قطر کے لوگ نہیں بلکہ امریکی اہداف ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فون کال پر ایرانی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنا یہ دعوی دہرایا کہ ایران کا ہدف قطر کی سرزمین اور لوگ نہیں ہیں، امریکی اڈے اور امریکی اہداف ہیں۔ یہ بات قطر کی خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کی کے۔
تاہم قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اپنے ایرانی ہم منصب کا یہ مؤقف مسترد کر دیا اور کہا کہ زمینی حقائق اس سے مختلف پیں کیونکہ حملے ان علاقوں میں کیے گئے ہیں جو قطری شہریوں کے رہائشی علاقے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائلوں سے ان علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جو حماد انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے متصل ہیں۔ نیز قطر کے صنعتی زونز کے نمایاں انفراسٹرکچر سے متعلق ہیں۔ حتیٰ کہ ان میں قطر کے نیچرل گیس کے پیداواری یونٹس کا علاقہ بھی شامل ہے۔
وزیر خارجہ قطر نے کہا یہ قطری خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اقدامات اور کارروائیاں اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایران کشیدگی بڑھانے کی کوشش میں ہے اور ایران کی طرف سے ایسی کوئی خواہش نظر نہیں آتی جو کشیدگی کم کرنے کے لیے ہو۔ بلکہ ایران اپنے پڑوسیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے اور انہیں جنگ میں کھینچ رہا ہے۔
اس موقع پر شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان حملوں کو روکا جائے اور ان ملکوں کو جنگ سے دور رہنے دیا جائے جنہوں نے جنگ سے دور رہنے کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی کارروائیاں ہمسایوں کے لیے کسی اچھی خواہش کا اظہار نہیں ہیں۔ قطر ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ لیکن اگر ملک پر کوئی جارحیت یا خطرہ مسلط کیا گیا تو خود مختاری و سلامتی کا پورا دفاع کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ایرانی حملوں کو بغیر جواب کے نہیں جانے دیں گے۔ اپنے دفاع کا قطر فطری طور پر حق رکھتا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 بھی اس حق کا تحفظ دیتا ہے۔