جی سی سی ریاستوں کو خوراک کی درآمد کے لیے سعودی عرب پر انحصار
آبنائے ہرمز سے 70 فیصد خوراک آتی ہے، ناقابلِ گزیر قلت کا خدشہ
تجزیہ کاروں نے جمعرات کو خبراد کیا کہ اگر امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں خلل اور علاقائی فضائی حدود کی محدودیت مسلسل جاری رہی تو بعض خلیجی ریاستوں کو زمینی خوراک کی ترسیل کے لیے سعودی عرب پر انحصار کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ خطہ 90 فیصد تک خوراک کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے اور موجودہ حالات کی بنا پر قیمتوں میں اضافے اور بعض اشیا کی قلت متوقع ہے۔
چتم ہاؤس تھنک ٹینک کے نیل کوئلیم نے کہا، "جی سی سی (خلیج تعاون کونسل) کی 70 فیصد سے زیادہ اشیائے خوردونوش آبنائے ہرمز کے ذریعے درآمد ہوتی ہیں تو جنگ جاری رہنے سے خلیجی ریاستوں کو قلت کا سامنا کرنا ہو گا۔"
نیز کہا، "اگرچہ جی سی سی ممالک نے فراہم کنندگان کو متنوع بنانے اور خلل برداشت کرنے کی غرض سے مناسب ذخیرہ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں لیکن اس سے صرف مہینوں تک ہی گذارہ ہو سکتا ہے۔ اس وقت قیمتوں میں اضافہ اور ترسیل کی طویل مدت منڈیوں کو متأثر کرنا شروع ہو جائے گی۔"
اجناس کے تجزیہ کار ایشان بھانو نے کہا: "سب سے بڑا فوری اثر دبئی میں جبل علی کی ناکہ بندی سے ہو گا جو تقریباً 50 ملین لوگوں کی ضروریات پورا کرتی ہے۔ قطر، کویت، بحرین اور عراق مؤثر طریقے سے زمین سے گھرے ہوئے ہیں اور سعودی عرب کے ذریعے طویل زمینی راستوں پر انحصار کریں گے۔"
اس معاملے میں درپیش مسائل ابھی ظاہر ہونا باقی ہیں اور متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس کے پاس بنیادی ضروریات کے حکومت کے ماتحت ذخائر چار سے چھ ماہ کے لیے کافی ہیں۔ اس نے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ ہاٹ لائن کے ذریعے قیمتوں میں بلاجواز اضافے کی اطلاع دیں۔
پورے خلیج میں سپر مارکیٹ کے عملے نے کہا ہے کہ اگرچہ فراہم کنندگان کو بعض مصنوعات کی دوبارہ فراہمی میں زیادہ وقت لگ رہا ہے لیکن شیلفز وسیع پیمانے پر مسلسل ذخیرہ شدہ ہیں۔ ہفتے کے روز سے خلیج پر ایران کے حملوں سے بازاروں میں لوگ خوف و ہراس کے تحت خریداری کرنے لگے ہیں تاکہ آئندہ کے لیے خوراک ذخیرہ کر سکیں۔
کوئلیم نے کہا، "اگرچہ بازاروں میں اشیاء کا کافی ذخیرہ ہے لیکن خطرات کے خیال سے لوگوں کے بازاروں کی طرف دوڑ پڑنے سے عوام خوفزدہ ہو سکتے ہیں۔"