بھارت نے ایرانی جنگی جہاز آئرس لاوان کو کنارے سے لگنے کی اجازت دے دی: حکام

اسی دن امریکہ نے سری لنکا میں ایک اور ایرانی جہاز غرقاب کر دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ کے ہاتھوں ایرانی بحریہ کے ایک اور بحری جہاز کی ہمسایہ ملک سری لنکا کے قریب غرقابی کے بعد بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامانیم جے شنکر نے ہفتے کے روز کہا کہ بھارت نے انسانی ہمدردی کے طور پر ایک ایرانی جنگی جہاز کو کنارے سے لگنے کی اجازت دی۔

بھارتی حکومت کے ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران کی فوری درخواست کے بعد لاون بدھ کے روز بھارت کی جنوبی بندرگاہ کوچی پر کنارے سے لگ گیا۔ اسی دن امریکی آبدوز نے ایرانی بحریہ کے فریگیٹ ڈینا کو نشانہ بنایا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اور اسرائیل نے جو جنگ ایک ہفتہ قبل اسلامی جمہوریہ کے خلاف شروع کی ہے، اس کا ایک مقصد ایرانی بحریہ کو تباہ کرنا ہے۔

یو ایس نیول انسٹی ٹیوٹ کی آن لائن نیوز سائٹ کے مطابق ایک ایمفیبیئس بحری جہاز لاوان اور دو دیگر بحری جہاز "بیڑے کا جائزہ لینے کے لیے آ رہے تھے اور پھر وہ ایک طرح سے غلط رخ پر پھنس گئے،" جے شنکر نے سالانہ رائسینا ڈائیلاگ ایونٹ کو بتایا۔

نیز کہا، "مجھے لگتا ہے کہ ہم نے اس معاملے کو واقعی قانونی مسائل کے علاوہ انسانی نکتۂ نظر سے دیکھا ہے۔ میرے خیال میں ہم نے صحیح کام کیا ہے۔"

سری لنکا کی سمندری حدود سے باہر ساحل سے 19 بحری میل کے فاصلے پر اس کے خصوصی اقتصادی زون میں ڈینا پر امریکی حملے میں کم از کم 87 افراد ہلاک ہو گئے۔

ذرائع نے جمعہ کے اواخر میں کہا کہ بھارت کو 28 فروری کو لاوان کے کنارے سے لگنے کی درخواست موصول ہوئی تھی اور مزید بتایا کہ درخواست "فوری تھی کیونکہ جہاز میں تکنیکی مسائل پیدا ہو گئے تھے۔"

ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کے عملے کے 183 ارکان کوچی میں بحریہ کی سہولیات میں رہائش دی گئی۔

ڈرل کی ویب سائٹ اور سری لنکا کے حکام کے مطابق دینا بھارت کے زیرِ اہتمام بحری مشق سے واپسی پر تھا۔

سری لنکا کے حکام نے جمعے کے روز بتایا کہ وہ ایرانی بحریہ کے جہاز بوشہر کو اپنے حفاظتی حصار میں مشرقی ساحل پر ایک بندرگاہ پر لے گئے اور اس کے زیادہ تر عملے کو کولمبو کے قریب بحریہ کے کیمپ میں منتقل کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size