بیروت: روشہ کے ہوٹل پر اسرائیلی فضائی حملہ، چار افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

اسرائیلی ڈرون نے آج اتوار کی صبح سویرے بیروت کے ساحلی سیاحتی علاقے روشہ میں واقع ایک ہوٹل کے کمرے کو نشانہ بنایا۔

مقامی میڈیا کے مطابق یہ علاقہ لبنانی دارالحکومت کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے، جہاں حزب اللہ کی نمایاں موجودگی نہیں ہے۔

حملے میں رمادا ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا، جو سیاحوں اور کاروباری شخصیات میں مقبول سمجھا جاتا ہے۔ دھماکے کی آواز قریبی علاقوں کے رہائشیوں نے بھی سنی۔

لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اس حملے میں چار افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ حملے میں کس ہدف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔یہ حملہ اس ہفتے کے آغاز میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد کسی ہوٹل پر دوسرا حملہ ہے۔

اس سے قبل ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کی طرف راکٹ اور ڈرون داغے تھے، جس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان کے مختلف علاقوں میں جوابی حملے کیے جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک الگ واقعے میں بدھ کے روز بیروت کے مشرق میں واقع عیسائی اکثریتی علاقے الحازمیہ میں کومفورٹ ہوٹل کو بھی اسرائیلی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

لبنانی سوشل میڈیا صارفین اور مقامی نیوز پلیٹ فارمز نے ایسی ویڈیوز بھی شیئر کیں ،جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بیروت کے رمادا ہوٹل پر ہونے والے حملے کی ہیں۔

ادھر اسرائیلی فورسز نے اس سے قبل مشرقی لبنان میں ایک خصوصی کارروائی بھی کی جس کے دوران حزب اللہ کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے ایک قصبے پر شدید فضائی حملے کیے گئے۔ اس کارروائی میں 41 افراد ہلاک ہوئے، تاہم اسرائیل اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا جو 1986 سے لاپتہ اسرائیلی پائلٹ رون آراد کی باقیات تلاش کرنا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے فوٹوگرافر کے مطابق قصبے نبی شیت کے مرکزی چوک کا منظر جنگی میدان جیسا دکھائی دے رہا تھا۔ وہاں ایک گہرا گڑھا تھا جبکہ اردگرد کی کئی عمارتوں کے اگلے حصے تباہ، چھتیں گر چکی تھیں اور شیشے بکھرے ہوئے تھے۔ جبکہ ایک عمارت پر حزب اللہ کے رہنماؤں کی پرانی تصویر بھی آویزاں تھی۔

موقع پر موجود مناظر میں کئی تباہ شدہ گاڑیاں دکھائی دیں، جن میں ایک ایمبولینس بھی شامل تھی، جبکہ ایک سرخ گاڑی عمارت کے دوسرے فلور پر الٹی پڑی تھی کیونکہ عمارت کی چھت کا کچھ حصہ گر چکا تھا۔

قصبے کے رہائشی محمد موسیٰ (55 سال) نے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکوں کی آوازیں فلموں جیسی لگ رہی تھیں۔ بعد میں پتا چلا کہ ہیلی کاپٹروں کے ساتھ فوجی اتارے گئے تھے۔

انہوں نے کہا : یہاں مزاحمتی ماحول ہے، ان کااشارہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کی طرف تھا۔

ان کے مطابق حملہ آور فورسز اور مقامی جنگجوؤں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ اور جھڑپیں بھی ہوئیں۔آپریشن کے چند گھنٹے بعد اسرائیلی فوج نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ خصوصی دستوں نے لاپتہ پائلٹ رون آراد سے متعلق شواہد تلاش کرنے کے لیے کارروائی کی۔

فوج کے مطابق تلاش کے مقام سے آراد سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا اور آپریشن کے دوران اسرائیلی فورسز کو کوئی نقصان بھی نہیں پہنچا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بعد میں کہا کہ اس کارروائی میں آراد کا کوئی سراغ نہیں ملا، تاہم اسرائیل اپنے تمام لاپتہ فوجیوں کی تلاش کے عزم پر ہمیشہ قائم رہے گا۔

رون آراد 1986 میں لبنان کے اوپر طیارہ گرنے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن آج تک ان کی باقیات نہیں مل سکیں۔


لبنانی فوج کے کمانڈر جنرل روڈولف ہیکل نے ہفتے کو فوجی قیادت کے ایک ہنگامی اجلاس میں بتایا کہ اسرائیلی کمانڈوز جو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اترے تھے ،لبنانی فوج جیسی وردیاں پہنے ہوئے تھے اور انہوں نے فوجی گاڑیاں اور حزب اللہ کی اسلامی ہیلتھ اتھارٹی جیسی ایمبولینسیں بھی استعمال کیں۔

تباہی اور خونریزی

حزب اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے جمعہ کی رات30: 10 بجے دشمن اسرائیلی فوج کے چار ہیلی کاپٹروں کو شام کی سمت سے دراندازی کرتے ہوئے دیکھا۔

بیان کے مطابق جب دشمن کی فورس بے نقاب ہوئی تو جھڑپ شدت اختیار کر گئی اور اسرائیل نے تقریباً چالیس فضائی حملوں پر مشتمل شدید بمباری شروع کر دی۔

حزب اللہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا تاکہ جھڑپ کے علاقے سے اپنی فورس کے انخلا کو محفوظ بنایا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس دوران حزب اللہ کے جنگجوؤں نے انخلا کے وقت اسرائیلی فورسز پر راکٹ بھی داغے تھے۔

مشرقی لبنان میں بعلبک الہرمل کا علاقہ جو شام کی سرحد سے متصل ہے، ملک میں حزب اللہ کے اہم مضبوط گڑھوں میں شمار ہوتا ہے۔


لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اس کارروائی کے دوران النبی شیت اور اس کے اردگرد دیہات پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 41 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے کارروائی سے قبل جمعہ کی دوپہر النبی شیت اور قریبی قصبوں سرعین اور الخضر کے رہائشیوں کو علاقے خالی کرنے کا انتباہ دیا تھا۔جس کے چند گھنٹوں بعد اسرائیل نے قصبے اور اس کے اطراف پر پے در پے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔

النبی شیت کے میئر ہانی موسوی نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیلی انتباہ کے بعد لوگ محتاط ہو گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا:یہاں مزاحمتی معاشرہ ہے، ہمارے نوجوانوں نے اسرائیلی فورسز کے ساتھ قریب سے براہِ راست جھڑپ کی۔

انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے فوجیوں کے انخلا کو چھپانے کے لیے قصبے پر اندھا دھند بمباری کی، جس کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور ہمارے لوگوں کا خون بہا جو ہمارے لیے ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔

ہانی موسوی نے مزید کہا: جب تک اسرائیل موجود ہے ہم اس کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

قبر کی کھدائی

اسرائیل کے لیے رون آراد کے انجام کا پتا لگانا ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ اسرائیل کئی دہائیوں سے ان کے بارے میں کسی بھی معلومات کی تلاش میں ہے۔

اس مقصد کے لیے ماضی میں لبنان میں کئی کارروائیاں کی جا چکی ہیں اور حزب اللہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدوں میں بھی آراد سے متعلق معلومات حاصل کرنا شامل رہا ہے۔

قصبے کے ایک قبرستان میں اے ایف پی کے فوٹوگرافر نے ایک گہرا گڑھا دیکھا جو کھودی گئی قبر جیسا دکھائی دیتا تھا اور اس کے اردگرد دیگر قبروں کی نشانیاں موجود تھیں۔

بقاع کے علاقے میں حزب اللہ کے ایک عہدیدار نے ہفتے کے روز اے ایف پی کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے کی گئی اسرائیلی کارروائی کا ہدف قصبے میں واقع شُکر خاندان کا قبرستان تھا۔

گزشتہ ماہ لبنانی حکام نے چار افراد پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے رابطے اور شُکر خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ لبنانی افسر کے اغوا کا الزام عائد کیا تھا۔ حکام کے مطابق اس افسر کے بھائی پر رون آراد کی گرفتاری میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز عزم ظاہر کیا کہ وہ آراد کی تلاش جاری رکھے گی، کیونکہ وہ اپنے تمام ہلاک اور لاپتہ فوجیوں کو وطن واپس لانے کے عزم پر قائم ہے۔

آپریشن کے اعلان کے بعد آراد کی اہلیہ نے اسرائیلی فوج کا شکریہ ادا کیا، تاہم اسرائیلی میڈیا کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے شوہر کی باقیات کی تلاش میں فوجیوں کی جان کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اس وقت لبنان تک پھیل گئی جب حزب اللہ نے گزشتہ ہفتے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے ردعمل میں اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جو تہران پر امریکی۔اسرائیلی حملے کے آغاز میں مارے گئے تھے۔

اس کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی لبنان، مشرقی علاقوں اور بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر وسیع فضائی حملے شروع کیے۔

اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں زمینی طور پر بھی داخل ہو گئی اور اس نے شمالی اسرائیل کے شہریوں کو حزب اللہ کے حملوں سے بچانے کے لیے سرحد کے ساتھ ایک بفر زون قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں، جنہوں نے سرکاری طور پر حکومت کے پاس رجسٹریشن کرائی ہے۔

ہفتے کے روز بھی جنوبی لبنان میں اس وقت کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے جب اسرائیل نے مختلف علاقوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق خربۃ سلم کے قصبے پر اسرائیلی حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ کفررمان میں ایک اور حملے کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد ہلاک ہوئے۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے بیس سے زائد قصبوں اور دیہات کو نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں