بیروت سے 100 سے زائد ایرانیوں کا انخلا: روسی طیارے کے ذریعے واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران اور دوسری جانب امریکہ و اسرائیل کے درمیان گذشتہ ہفتے سے چھڑنے والی خونریز جنگ میں روس کے کردار اور تہران کے لیے اس کی ممکنہ مدد کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے درمیان ماسکو کا سایہ ایک بار پھر منظر نامے پر نمایاں ہو گیا ہے۔

ایک لبنانی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اتوار کے روز انکشاف کیا ہے کہ سفارت کاروں سمیت 100 سے زائد ایرانی شہریوں کو رات کی تاریکی میں ایک روسی طیارے کے ذریعے بیروت سے نکال لیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق مجموعی طور پر 117 ایرانیوں کو جن میں سفارتی عملہ اور ان کے اہل خانہ شامل تھے، روسی طیارے کے ذریعے لے جایا گیا جس نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب لبنانی دارالحکومت سے اڑان بھری۔

یہ معلومات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بیروت کے علاقے روشہ میں واقع 'رامادا ہسپتال' کے قریب ایرانی کمانڈروں کو نشانہ بنایا ہے۔

انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کا خدشہ

یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے اس بیان کے بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے روسی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تہران کو کسی قسم کی انٹیلی جنس معلومات فراہم نہ کریں۔ ویٹکوف سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے روس سے ایرانیوں کو اہداف اور دیگر امداد کے بارے میں معلومات دینے سے روکنے کا کہا ہے، تو ان کا جواب تھا کہ انہوں نے یہ بات انتہائی حتمی اور دو ٹوک انداز میں کہی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ امریکہ کو فی الحال یہ معلوم نہیں کہ آیا روس ایران کو معلومات فراہم کر رہا ہے یا نہیں۔ تاہم انہوں نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں اضافہ کیا کہ اس بات کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں کہ ماسکو تہران کی مدد کر رہا ہے۔

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ معاملہ ان کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہے۔ انہوں نے معلومات کی تصدیق کیے بغیر کہا کہ ہم ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل انٹیلی جنس امور سے باخبر امریکی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ روس نے ایران کو امریکی فوجی ساز و سامان بشمول بحری جہازوں اور طیاروں کے مقامات کی نشاندہی کر دی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے اس معاملے کی اہمیت کو کم قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے جمعہ کو میڈیا بریفنگ میں کہا کہ اس سے ایران میں جاری فوجی آپریشنز پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم انہیں مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے فوجی اہداف حاصل کر رہے ہیں اور اسی تسلسل کو برقرار رکھیں گے۔

یاد رہے کہ روس اور ایران نے گذشتہ برس ایک تزویراتی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں فوجی اور اسلحہ سازی کے شعبے میں تعاون شامل تھا۔ تاہم اس معاہدے میں یہ شق شامل نہیں تھی کہ کسی ایک ملک پر حملے کی صورت میں دوسرا ملک جنگ میں براہِ راست مداخلت کا پابند ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size