میدان جنگ میں ہمارے میزائلوں کی گنتی کر لو: ایرانی فوج کا امریکہ اور اسرائیل کو چیلنج
ایران اور دوسری جانب اسرائیل و امریکہ کے درمیان 28 فروری سے چھڑنے والی خونی جنگ کے کئی ہفتوں تک طویل ہونے کے خدشات کے درمیان ایرانی فورسز نے اپنی دھمکیوں کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مرکزی ہیڈ کوارٹر 'خاتم الانبیاء' کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے اتوار کے روز اپنے بیان میں کہا کہ مسلح افواج کا ساز و سامان اور اسلحہ اب پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور اعلیٰ صلاحیتوں کا حامل ہو چکا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے میں کمی کے دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی اور صہیونی دشمن کہتا ہے کہ اسے ہمارے میزائلوں کی تعداد کا علم ہے، مگر ہم انہیں کہتے ہیں کہ ہمارے میزائلوں کی گنتی میدانِ کارزار میں کر لیں۔
تل ابیب اور حیفا پر فضائی حملے
ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے مطابق ایرانی فوج نے تل ابیب اور حیفا پر فضائی حملوں کا اعلان کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران بحریہ اور فضائیہ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ڈرون طیاروں کے ذریعے حیفا اور تل ابیب کے علاوہ کویت میں واقع امریکی مرکز 'کیمپ عریفجان' کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے بھی کویت میں امریکی فوجی کیمپ 'العدیری' پر ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کیا تھا۔
9600 سے زائد اہداف اور انسانی جانی نقصان
دوسری جانب ایرانی ہلالِ احمر نے اطلاع دی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک 9 ہزار 600 سے زائد سویلین اہداف کو نقصان پہنچا ہے، جن میں لگ بھگ 8 ہزار رہائشی عمارتیں شامل ہیں۔ ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے آٹھویں روز تک اموات کی تعداد 1200 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 10 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے 400 میزائل لانچرز پر حملہ
اس کے برعکس، قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران میں 400 سے زائد میزائل لانچنگ پیڈز اور اسلحہ سازی کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ ان کی فضائیہ نے مغربی اور وسطی ایران میں بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں جن میں بیلسٹک میزائلوں کے لانچرز اور ہتھیار تیار کرنے والی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک تہران کی جانب سے تقریباً 2700 میزائل اور ڈرون فائر کیے گئے ہیں۔ امریکی صدر بنجمن نیتن یاھو کے قریبی حلیف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران پر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ غیر مشروط طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔ اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس شدید جنگ میں 6 ماہ تک ڈٹے رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
تاہم اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ لانچنگ پیڈز کی تباہی کے باعث ایران کی میزائل فائر کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اسرائیلی اندازوں کے مطابق ایران کے تقریباً 60 فیصد میزائل لانچرز تباہ کیے جا چکے ہیں، تاہم اس خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ابھی مزید چند ہفتے درکار ہو سکتے ہیں۔
-
ایران میں منصوبے سے بڑھ کر نتائج حاصل کر رہے ہیں: ٹرمپ
تین دنوں میں 42 ایرانی بحری جہازوں کو غرق کردیا ہے: امریکی صدر
بين الاقوامى -
آپ کے بحری بیڑے کی ضرورت نہیں، ایران جنگ میں آپ کا رویہ یاد رکھا جائے گا: ٹرمپ
لندن اور واشنگٹن کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ
بين الاقوامى -
ٹرمپ کا عندیہ: ایران کے یورینیم محفوظ کرنے کے لیے امریکی فوجی بھیجے جا سکتے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز تہران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرہ محفوظ بنانے ...
بين الاقوامى