"جنگ کے زمانے کی غدّار" ... ایرانی نظام کے جبر سے خواتین کھلاڑیوں کے تحفظ کے مطالبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے معزول شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے آسٹریلیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی خواتین فٹ بال ٹیم کی ان کھلاڑیوں کی سکیورٹی کو یقینی بنائے جنہوں نے ایشیا کپ کے ایک میچ سے قبل قومی ترانہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔

ایرانی وفد کے 26 ارکان امریکی و اسرائیلی حملوں کے آغاز سے چند روز قبل آسٹریلیا پہنچے تھے۔ ان حملوں میں سابق سپریم لیڈر خامنہ ای ہلاک ہو چکے ہیں۔

معزول شاہ کے بیٹے نے آج پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا "ایران کی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کی کھلاڑیوں کو اسلامی جمہوریہ کی جانب سے شدید دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔" انہوں نے مزید کہا "ایران واپسی کی صورت میں انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ میں آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ان کی سکیورٹی یقینی بنائے اور انہیں ہر ممکن ضروری مدد فراہم کرے۔"

پہلوی بھی ان کارکنوں اور سیاسی شخصیات کی بڑھتی ہوئی آوازوں میں شامل ہو گئے ہیں جو آسٹریلیا سے ان کھلاڑیوں کو پناہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ کے پہلے میچ سے قبل ایرانی ترانہ بجنے کے دوران خاموشی اختیار کی تھی، تاہم بعد کے دو میچوں میں انہوں نے ترانہ پڑھا تھا۔ ان کے اس رویے کو بغاوت سے تعبیر کیا گیا، جبکہ سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک میزبان نے انہیں "جنگ کے وقت کی غدار" قرار دیتے ہوئے "شرمندگی کی انتہا" کہا۔

ملک کے مشرق میں واقع "گولڈ کوسٹ" اسٹیڈیم کے باہر ایک ہجوم جمع ہوا، جہاں ایران نے ہفتے کے آخر میں اپنا آخری میچ کھیلا تھا۔ مظاہرین نے "ایران میں نظام کی تبدیلی"، "انہیں جانے دو" اور "ہماری بیٹیوں کو بچاؤ" جیسے نعرے لگائے۔

پیر کے روز فرانسیسی خبر رساں ادارے کے ایک صحافی نے متعدد کھلاڑیوں کو اپنے ہوٹل کی بالکونیوں سے فون پر بات کرتے ہوئے دیکھا۔ آسٹریلوی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے فرانس پریس کو بتایا کہ وہ "انفرادی معاملات پر تبصرہ نہیں کر سکتے"۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک کارکن زکی حیدری کے مطابق، اگر ان کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجا گیا تو انہیں ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے فرانس پریس کو بتایا "ممکن ہے کہ ٹیم کے ارکان کے بعض خاندانوں کو پہلے ہی دھمکیاں مل چکی ہوں۔"
آسٹریلیا میں ایرانی سفارت خانے نے تبصرے کی درخواستوں کا اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی خواتین کھلاڑیوں نے پہلی بار 2022 میں بھارت میں ہونے والے ایشیا کپ میں حصہ لیا تھا اور وہ ایک ایسے ملک میں قومی ہیرو بن کر ابھری تھیں جہاں خواتین کے حقوق پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں