موریتانیہ میں افطار ڈنر کے دوران ایرانی سفیر کی دست بوسی کی ویڈیو پر نیا تنازعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

موریتانیہ میں ایک افطار ڈنر کے دوران ایرانی سفیر جواد ابو علی اکبر کے ہاتھ چومنے کے مناظر نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس رویے پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور اس کے پس پردہ مقاصد اور وقت کے انتخاب پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق موریتانیہ میں اخوان المسلمون کے نظریات کی حامل سمجھی جانے والی جماعت ' نیشنل سوسائٹی برائے اصلاح و ترقی' (تواصل) نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ایرانی سفیر کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں متعدد سیاسی و صحافتی شخصیات اور پارٹی کارکنان نے شرکت کی۔

تقریب کے دوران اس وقت حیرت انگیز صورتحال پیدا ہو گئی جب کچھ شرکا نے ایرانی سفیر سے مصافحہ کرتے ہوئے ان کے ہاتھ چومنا شروع کر دیے۔ یہ مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی تنقید کا نشانہ بننے لگے۔

ملا جلا رد عمل

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طرز عمل موجودہ علاقائی صورتحال کے بالکل منافی ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب خطہ شدید تناؤ کا شکار ہے اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک انفرادی فعل ہے جس کا ریاست کے سرکاری موقف سے کوئی تعلق نہیں۔

اس حوالے سے سماجی کارکن شیخ اولاد العبید نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’تواصل‘ پارٹی ایرانی سفیر کی میزبانی اور کارکنان کے ہاتھ چومنے کے مناظر کے ذریعے موریتانیہ کے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب خلیجی ممالک کو ایران کی طرف سے بمباری اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔

ایک اور سرگرم کارکن مولائے محمد نے رائے دی کہ خلیج میں جاری کشیدگی اور ایران کی طرف منسوب حملوں کی وجہ سے یہ مناظر بہت سے عربوں کے لیے اشتعال انگیز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی حساسیت کا خیال رکھا جانا چاہیے تھا کیونکہ ایسے اقدامات سے کئی سیاسی پیغامات اخذ کیے جا سکتے ہیں۔

سیاسی پیغامات اور عوامی تشویش

سماجی کارکن سیدی الامین ولد محمد نے ایک ایرانی سفارت کار کے لیے اس قدر والہانہ عقیدت کے اظہار پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اپنی روایات اور اقدار رکھتا ہے اور افطار کی ان ویڈیوز میں جو کچھ دکھایا گیا وہ موریتانیہ کی سیاسی ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتا۔

دوسری جانب عبداللہ السالم نامی شہری کا کہنا تھا کہ ان مناظر پر بحث ہونا فطری ہے، تاہم یہ ایک سیاسی جماعت کا انفرادی عمل ہے جو تمام موریتانوی عوام کی نمائندگی نہیں کرتا، اس لیے اسے پورے معاشرے کی ثقافت یا ریاست کا سرکاری موقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں