آسٹریلیا : 5 ایرانی خواتین فٹ بال کھلاڑیوں کو "انسانی ہمدردی" کی بنیاد پر ویزے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

آسٹریلیا نے ایرانی خواتین فٹ بال ٹیم کی پانچ کھلاڑیوں کو ویزے دینے کی منظوری دے دی ہے جو ایشین ویمنز کپ میں شرکت کے لیے ملک کے دورے پر تھیں۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینبرا پر اس زور کے بعد سامنے آیا ہے کہ ان کھلاڑیوں کی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر انہیں تہران واپس نہ بھیجا جائے۔

آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے آج منگل کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ان کے ملک نے ایرانی فٹ بال ٹیم کی 5 کھلاڑیوں کو "انسانی ہمدردی" کی بنیاد پر ویزے جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ "ٹیم کی باقی ارکان کا بھی آسٹریلیا میں قیام کے لیے خیر مقدم ہے"۔

دریں اثنا، ان خواتین کو مقامی وقت کے مطابق منگل کی علی الصبح آسٹریلوی فیڈرل پولیس کے افسران کی نگرانی میں گولڈ کوسٹ کے ہوٹل سے "ایک محفوظ مقام" پر منتقل کر دیا گیا، جہاں انہوں نے برک سے ملاقات کی اور ان کے انسانی ہمدردی کے ویزوں کی کارروائی مکمل کی گئی۔ یہ بات وزیر داخلہ نے برسبین میں صحافیوں کو بتائی۔

یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیر کے روز آسٹریلیا سے کی گئی اس درخواست کے بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے ایرانی ٹیم کی کھلاڑیوں کو پناہ دینے اور انہیں واپس نہ بھیجنے کا کہا تھا۔

ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ آسٹریلیا "ایک فاش انسانی غلطی کر رہا ہے"۔ انہوں نے آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیزی کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ "اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو امریکہ انہیں خوش آمدید کہے گا"۔

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور اس کے بعد مشرق وسطیٰ میں ہونے والے رد عمل اور فوجی کارروائیوں کے بعد، ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے خواتین کی قومی ٹیم کو "جنگ کے وقت کی غدار" قرار دیا تھا۔ ایشین کپ کے افتتاحی میچ میں قومی ترانہ نہ پڑھنے پر انہیں وطن واپسی پر سنگین نتائج کی ضمنی دھمکی بھی دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ ایرانی ٹیم گذشتہ ماہ ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے ایشین ویمنز کپ میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچی تھی، تاہم وہ ہفتہ وار تعطیلات کے دوران فلپائن سے شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں