ہمارے پاس کئی سرپرائزز موجود ہیں: ایران

ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران میں اہداف کا حصول ہفتوں لے سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقجی نے اپنے ’’ ایکس ‘‘ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے بقول فاش غلطی کے نام سے آپریشن شروع ہونے کے 9 دن بعد تیل کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں۔ تمام بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جانتا ہے کہ امریکہ ایک بہت بڑے افراطِ زر کے جھٹکے کو روکنے کی امید میں اس کی تیل کی تنصیبات اور ایٹمی مراکز کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کا ملک مکمل طور پر تیار ہے۔ عراقچی نے کہا ہمارے پاس بھی بہت سے سرپرائزز موجود ہیں۔ ایرانی وزیر نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی منسلک کی جس میں تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اعداد و شمار دکھائے گئے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئٍ ہے جب اسرائیلی فوج نے پیر کے روز ایران پر امریکہ کے ساتھ مل کر کیے جانے والے مشترکہ حملے کے دسویں روز تہران، اصفہان اور جنوبی ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ فضائیہ نے تہران، اصفہان اور جنوبی ایران میں ایرانی حکومت کے انفراسٹرکچر کے خلاف بیک وقت بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کی لہر شروع کر دی ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے بوشہر اور تہران میں 3 ڈرونز مار گرانے کا اعلان کیا ہے۔ تسنیم ایجنسی کے مطابق آج جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بوشہر صوبے کے اضلاع جم اور خورموج میں MQ9 طرز کے دو ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں تباہ کر دیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاسداران انقلاب کے جدید اور جدید ترین فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تہران کی فضاؤں میں ایک اور ڈرون مار گرایا گیا ہے۔

جنگ جاری ہے

یہ صورتحال ان اندازوں کے درمیان سامنے آئی ہے کہ بھڑکتی ہوئی جنگ مزید کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ اخبار ’’ یدیعوت احرونوت ‘‘ کے مطابق اسرائیلی فوج کے تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایران پر جنگ کم از کم ایک ماہ تک جاری رہے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی کہا تھا کہ ایران میں اہداف کا حصول ہفتوں لے سکتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بڑے فوجی اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران پر ہماری ضربیں مزید شدید ہوں گی۔ انہوں نے ساتھ ہی اس بات کی تصدیق کی کہ فوجی آپریشن منصوبے کے مطابق چل رہا ہے۔ دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب نے اتوار کو زور دیا تھا کہ وہ جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے ۔ سپاہ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس 6 ماہ تک تصادم جاری رکھنے کی مکمل تیاری اور صلاحیتیں موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں