سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے معروف کمپنی Planet Labs نے دشمنوں کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملوں کے لیے اپنی تصاویر کے استعمال سے روکنے کی خاطر مشرق وسطیٰ تک رسائی پر پابندیوں میں توسیع کر دی ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ تجارتی خلائی سرگرمیوں کا پھیلاؤ کس طرح تنازعات پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
کیلیفورنیا میں قائم یہ کمپنی زمین کی تصویر کشی کرنے والے سیٹلائٹس کا ایک بڑا بیڑا چلاتی ہے اور حکومتوں، کمپنیوں اور میڈیا کو ایسی تصاویر فروخت کرتی ہے جو مسلسل اپ ڈیٹ ہوتی رہتی ہیں۔
کمپنی نے پیر کے روز اپنے صارفین کو مطلع کیا تھا کہ وہ تصاویر کی فراہمی میں تاخیر کی مدت کو 14 دن تک بڑھا رہی ہے، جبکہ گذشتہ ہفتے یہ تاخیر چار دن مقرر کی گئی تھی۔
کمپنی کے ترجمان نے روئٹرز کو دیے گئے بیان میں کہا کہ یہ اقدام عارضی ہے اور اس کا مقصد "تصاویر کی کسی بھی غیر منظم تقسیم کو روکنا ہے، جس کے نتیجے میں وہ نادانستہ طور پر دشمن قوتوں تک پہنچ سکتی ہیں جو انہیں تزویراتی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں"۔
ترجمان نے مزید کہا "یہ تنازع کئی لحاظ سے تغیر پذیر اور منفرد ہے، اس لیے پلینیٹ لیبس کمپنی ایسے مضبوط اقدامات کر رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہماری تصاویر کسی بھی طرح اتحادیوں، نیٹو کے اہل کاروں اور شہریوں پر حملوں میں مدد گار ثابت نہ ہوں"۔
خلائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران تجارتی تصاویر تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہو سکتا ہے، جس کے لیے وہ امریکہ کے دیگر دشمنوں جیسے ذرائع استعمال کر سکتا ہے۔
مسلح افواج اہداف کے تعین، ہتھیاروں کی رہنمائی اور میزائلوں کی ٹریکنگ سے لے کر مواصلات تک ہر چیز کے لیے خلا پر انحصار کرتی ہیں۔ جدید جنگ میں خلا کے مرکزی کردار کے پیش نظر، امریکی حکام نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان کی خلائی افواج ایران پر آپریشن میں "نمایاں کردار ادا کرنے والے اداروں" میں شامل تھیں۔
امریکی اسپیس کمانڈ کے ترجمان نے استعمال کی گئی صلاحیتوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔ اسپیس کمانڈ میزائلوں کی ٹریکنگ، مواصلات کو محفوظ بنانے اور زمین پر موجود امریکی و مشترکہ افواج کی نگرانی کے لیے وزارتِ دفاع (پینٹاگان) کے سیٹلائٹس کے استعمال میں مدد فراہم کرتی ہے۔
اگرچہ اعلیٰ معیار کی خلائی تصاویر ماضی میں صرف خلا میں ترقی یافتہ طاقتوں کا خاصہ تھیں، لیکن تجارتی خلائی تصاویر تک رسائی نے سب کے لیے مواقع برابر کر دیے ہیں۔ یہ بات روس کے ساتھ جنگ کے دوران یوکرین میں دیکھی گئی۔
اب سیٹلائٹ آپریٹرز تصاویر کے تجزیے کی صلاحیت کو تیز کرنے اور اہم علاقوں کی نشان دہی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔
دفاعی صنعت کے مشیر اور برطانوی فوج کے ریٹائرڈ وائس مارشل کرس مور نے کہا کہ "پہلے یہ خصوصی تجزیہ صرف اعلیٰ سطح کے فوجی تجزیہ کاروں کا کام تھا، لیکن اب ایسا نہیں رہا"۔
انہوں نے مزید کہا "آخر کار، یہ خلا سے ایک ایسی آنکھ بن جائے گی جو سب کچھ دیکھتی ہے، جس سے فوجی دستوں کو چھپانا اور دھوکہ دہی کی کارروائیاں کرنا مشکل ہو جائے گا"۔
-
ایرانی عسکری ذرائع کی خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مالیاتی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی
گذشتہ روز ایرانی بینک پر حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا، تہران کا انتباہ
مشرق وسطی -
ایران خطے کے ممالک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا : پزشكيان
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ خطے میں امریکیوں کو نشانہ بنانا ایران کا جائز حق ہے
مشرق وسطی -
ٹرمپ جب فوجی مقاصد حاصل ہو جانے کا فیصلہ کریں گے تو ایران جنگ ختم ہو جائے گی: وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے منگل کو کہا کہ مطلوبہ مقاصد حاصل ہوتے ...
بين الاقوامى