وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے منگل کو کہا کہ مطلوبہ مقاصد حاصل ہوتے ہی ایرانی اہداف کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائیاں ختم ہو جائیں گی۔
انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا، "جب کمانڈر ان چیف طے کریں گے کہ فوجی مقاصد پورے ہو گئے اور یہ کہ ایران مکمل اور غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کی پوزیشن میں ہے تو کارروائیاں ختم ہو جائیں گی۔ خواہ وہ کہیں یا نہ کہیں"۔
لیویٹ نے یہ بھی کہا، کارروائیاں ٹھیک جا رہی ہیں اور منصوبہ بندی سے آگے ہیں۔
انہوں نے میڈیا کو بتایا، "ہم جانتے ہیں کہ امریکی فوج اور ہمارے بہادر سپاہی ان مقاصد کو مقررہ وقت سے پہلے ہی اور تیزی سے انجام دے رہے ہیں۔"
انہوں نے مزید زور دیا کہ کارروائی کے مقاصد "[ایران کے] میزائلوں اور ان کی امریکی بحریہ کو تباہ کرنے کی صلاحیت ختم کرنا، انہیں ہمیشہ کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے مستقلاً روکنا اور یقیناً خطے میں ان کی شیطانی دہشت گرد پراکسیز کو کمزور کرنا تھے۔"
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے تھے۔
ایران نے جواباً خطے میں اسرائیل اور امریکی فوجی مراکز پر حملے شروع کر رکھے ہیں، خلیج، شرقِ اوسط اور قفقاز کے ممالک پر اندھا دھند فائرنگ کی ہے اور آبنائے ہرمز بند کر دی ہے۔
-
آبنائے ہرمز کے قریب بارودی سرنگیں بچھانے والے 16 ایرانی کشتیاں تباہ کر دی: امریکی فوج
امریکی فوج نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے بارودی ...
مشرق وسطی -
ایرانی عسکری ذرائع کی خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مالیاتی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی
گذشتہ روز ایرانی بینک پر حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا، تہران کا انتباہ
مشرق وسطی -
ایران خطے کے ممالک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا : پزشكيان
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ خطے میں امریکیوں کو نشانہ بنانا ایران کا جائز حق ہے
مشرق وسطی