جنگ کو طول دینے کے حامی نہیں، امریکی اخبار کا دعویٰ بے بنیاد ہے:سعودی عرب

امن کا فروغ اور استحکام سعودی خارجہ پالیسی کا طرہ امتیاز ہے: سعودی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے ایک ذمہ دار ذریعے نے "العربیہ چینل" سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی قیادت ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو طویل کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

سعودی عرب نے اس سے قبل ایران کی جانب سے ریاستوں کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کے سنگین نتائج سے خبردار کیا تھا۔ ریاض نے خلیجی ممالک اور اردن کے خلاف ایرانی جارحیت اور کھلی خلاف ورزیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی تھی۔ سعودی عرب نے برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے دفاعی اقدامات کی حمایت کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کا اعادہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی پامالی کے نتائج انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں۔

ان تمام معاملات سے ہٹ کر ریاض کی خارجہ پالیسی ہمیشہ امن کے فروغ اور استحکام کے مواقع پیدا کرنے پر مبنی رہی ہے۔ یہ پالیسی "نیویارک ٹائمز" کے ان دعووں کے مکمل برعکس ہے جن میں جنگ کو طول دینے کی بات کی گئی ہے۔ سعودی عرب اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت کے تحفظ اور کسی بھی جارحیت کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

اس کے برعکس تہران کی جانب سے ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے مملکت کے مختلف حصوں پر حملے کیے گئے۔ اس کے باوجود ریاض نے واضح طور پر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود یا اپنی زمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی یا کسی بھی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ سعودی ذرائع کے مطابق مملکت کا یہ راسخ عزم ان تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے کی جائیں، جو کہ "نیویارک ٹائمز" کے بے بنیاد الزامات کی نفی کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size