ایران اور اسرائیل کی جنگ میں کلسٹر بموں کا استعمال کیا جا رہا ہے جن کا مقصد فضائی دفاعی نظام میں شگاف ڈالنا اور زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانا ہے۔ نارنجی روشنی کی چمک دراصل چھوٹا بم ہوتی ہے۔ ہر چمک میں 5 کلو گرام تک دھماکہ خیز مواد ہوتا ہے۔ یہ چمکیلے بم میزائل کے سرے سے بلندی پر چھوڑے جاتے ہیں جس کے بعد وہ وسیع رقبے پر بے ترتیبی سے گرتے ہیں۔ کلسٹر بموں کی کئی اقسام ہیں جن میں طیاروں سے گرائے جانے والے بم اور ملٹی پل راکٹ لانچر سسٹم شامل ہیں جو سینکڑوں چھوٹے نارنجی چمک والے بم بکھیرتے ہیں۔
کلسٹر بموں کی خصوصیات
ہر کلسٹر بم میں 5 کلو گرام تک بارود ہوتا ہے اور یہ بلندی سے چھوڑے جاتے ہیں تاکہ وسیع رقبے پر پھیل سکیں۔ زیادہ تر ایرانی بیلسٹک میزائلوں میں تقریباً 24 چھوٹے بم ہوتے ہیں۔ "خرمشهر" نام کے ہتھیار کو 80 کلسٹر بموں تک سے لیس کیا جا سکتا ہے۔
فعال ایرانی کلسٹر بموں کی کچھ اقسام
ایران نے میزائل دفاعی نظام کو ناکام بنانے کے لیے ایک نئے حربے کے طور پر بڑی تعداد میں ایسے وار ہیڈز تیار کیے ہیں جو کلسٹر گولہ بارود لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ’’ سی این این‘‘ کے ماہرین نے دو الگ الگ ایرانی حملوں میں کلسٹر بموں کے استعمال کے نمونوں کا تجزیہ کیا اور سات سے آٹھ میل کے رقبے پر نقصانات کے نشانات دیکھے۔ یہ بم گھروں، دکانوں، سڑکوں اور باغات پر گرے تھے۔
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیل پر داغے گئے تقریباً نصف بیلسٹک میزائل کلسٹر گولہ بارود سے لیس تھے۔ یہ گولہ بارود اسرائیلی فضائی دفاع کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ ان کا سائز چھوٹا ہے۔ انہیں روکنے کا وقت بہت کم ہوتا ہے۔ ان کے گرنے کی رفتار تیز ہے اور یہ زمین پر روک تھام کے امکانات کو کم کرنے کے لیے بلندی پر ہی بکھر جاتے ہیں۔