ناروے کی حکومت نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تمام تجارت پر پابندی لگانے کا ارادہ کیا ہے۔
اوسلو میں وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، "ناروے کے لوگوں اور کمپنیوں کو غیر قانونی بستیوں کے برقرار رکھنے میں تعاون نہیں کرنا چاہیے۔ آبادکاری کی پالیسی دو ریاستی حل کے حصول کے امکان کو کمزور کرتی ہے۔"
حکومت مقبوضہ فلسطینی اراضی - غزہ اور مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم - میں قائم کردہ اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی تجارت پر خاص طور پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔
وزارت نے کہا اوسلو کا یہ بھی ارادہ ہے کہ "یہودی بستیوں میں جائیداد کی خریداری، جائیداد پر تعمیرات، تزئین و آرائش اور خرید و فروخت سے متعلق خدمات کی ان علاقوں میں فراہمی اور ایسے تجارتی اداروں کا حصول بھی غیر قانونی قرار دیا جائے جن کا ہیڈ آفس اور پیداواری سہولیات آبادیوں میں واقع ہیں"۔
حکومت نے اس سلسلے میں ایک بل کا مسودہ تیار کیا ہے جو تین ماہ یعنی 19 ستمبر تک کے لیے مشاورت سے مشروط ہو گا۔
وزیرِ خارجہ ایسپین بارتھ ایڈ نے بیان میں کہا "ہم ان غیر قانونی آبادیوں کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیوں پر پابندی لگانا چاہتے ہیں"۔
بل میں زور دیا گیا ہے کہ ناروے فلسطینی سرزمین پر جائز فلسطینی سرگرمیوں کے ساتھ تجارت اور دیگر روابط نیز انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھے گا۔
بارتھ ایڈ نے کہا، "آبادیاں فلسطینی ریاست کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہیں۔"
ناروے جو یورپی یونین کا رکن نہیں ہے، نے 2024 میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔