خلیجی ملکوں کے اندر جاری ایرانی حملے، بحرین نے اجتماعی دفاع کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

خلیجی ملک بحرین جو یکم مارچ کے بعد سے مسلسل ایرانی حملوں کی زد میں زیادہ آنے والی خلیجی ریاستوں میں سے ایک ہے اپنے بین الاقوامی شراکت دار امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بحرین کے حفوظ و دفاع کے لیے اجتماعی کوشش کی جائے۔

بحرین میں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں اس ناطے وہ امریکہ کا تذویراتی شراکت دار ہے۔ علاوہ ازیں بحرین نے اسرائیل کے ساتھ بھی کئی برسوں سے سفارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔

جبکہ ایران نے امریکہ و اسرائیل کی دوسری جنگ کے اپنے خلاف اعلان سے بھی پہلے یہ اعلان کر دیا تھا کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو یہ جنگ ایران تک محدود نہیں رہے گی پورے خطے یں پھیل جائے گی۔ کیونکہ ایران خطے میں امریکی و اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کا اپنا جائز حق سمجھے گا۔ اس لیے ایران نے بحرین کو مسلسل اپنے میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔

پیر کے روز بحرینی نمائندے نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے دفاع کو یقینی بنانے کی شراکت داروں سے اپیل کی ہے۔ اس موقع پر بحرینی نمائندہ نینسی عبداللہ جمال نے بحرین میں ایرانی حملوں کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنایا جائے۔

نینسی عبداللہ جمال یو این سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ کےدوران یہ بھی مطالبہ کر رہی تھیں کہ 2024 میں منظور کردہ قرارداد 1540 پر عملدرآمد ممکن بنایا جائے اور نان سٹیٹ ایکٹرز کو جوہری، کیمیائی اور بائیو کیمکل ہتھیاروں تک رسائی سے روکا جائے۔ نیز ان ہتھیاروں کے ڈلیوری سسٹم کے حصول سے بھی روکا جائے۔

بحرین نمائندہ نے کہا ان کا ملک 26 فروری سے بہت نازک صورت حال سے گزر رہا ہے۔ نیز پورا علاقہ کشیدگی اور جنگ کی زد میں ہے۔

اہم بات ہے کہ خلیجی ملکوں کا براہ راست ایران کے خلاف جنگ میں کوئی کردار نہیں لیکن ان کے ہاں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی، فوجی تنصیبات اور امریکی افواج کے ہزاروں کی تعداد میں موجودگی نے انہیں بھی ایرانی جوابی کارروائیوں کا ہدف بنا دیا ہے۔

بحرین کے علاوہ ایران کی طرف سے اردن، امارات، قطر ، سعودی عرب ، کویت وغیرہ کو بھی شانہ بنائے جانے کا بحرین کی نمائندہ نے ذکر کیا۔

بین الاقوامی برادری نے ایران کے ان حملوں کی قرارداد نمبر 2817 کے تحت سخت مذمت کی ہے۔ یہ قرارداد حال ہی میں منظور کی گئی ہے۔ کہ کوئی ملک عام شہریوں، سول انفراسٹرکچر کو براہ راست نشانہ بنائے۔ نینسی جمال نے کہا ایرانی ڈرون حملے پورے علاقے کی سلامتی و استحکام کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے قرارداد نمبر 1540پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے قائم کمیٹی کے کام کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے علاقے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دینے کا بھی ایک بار پھر مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں