اسرائیل کی جانب سے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کے قتل کے اعلان کے کچھ ہی لمحوں بعد، اس اہم ایرانی عہدے دار کے 'ایکس' اکاؤنٹ پر ایک پیغام نشر ہوا ہے۔
اکاؤنٹ پر ہاتھ سے لکھی گئی ایک تازہ تحریر شیئر کی گئی ہے جس میں لاریجانی نے ایرانی بحریہ کے ان فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے جو جنگ کے دوران مارے گئے اور جن کا جنازہ آج منگل کے روز متوقع ہے۔
به مناسبت مراسم تشییع سلحشوران نیروی دریایی ارتش جمهوری اسلامی ایران: یاد آنان همواره در قلب ملت ایران خواهد بود و این شهادتها بنیان ارتش جمهوری اسلامی را برای سالها در ساختار نیروهای مسلح استوار مینماید. ازخداوند متعال علو درجات برای این شهدای عزیز خواستارم. pic.twitter.com/dvTdhyDYbY
— Ali Larijani | علی لاریجانی (@alilarijani_ir) March 17, 2026
اس پیغام میں لاریجانی نے بحریہ کے ان اہل کاروں کو "بہادر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی یاد ایرانی قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی اور آنے والے سالوں میں فوج کی بنیادوں کو مزید مضبوط کرے گی۔ اس پیغام نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ابھی تک ایرانی حکام کی جانب سے (ان کی ہلاکت کے حوالے سے) کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاتز نے آج ایک وڈیو خطاب میں دعویٰ کیا کہ گذشتہ رات ایک حملے میں اس اہم ایرانی عہدے دار اور بسیج کے سربراہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے بھی ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ماتحت بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
#عاجل ❌في ضربة دقيقة في طهران: جيش الدفاع قضى على قائد قوات البسيج
— افيخاي ادرعي (@AvichayAdraee) March 17, 2026
❌أغار سلاح الجو بتوجيه استخباراتي دقيق من هيئة الاستخبارات العسكرية أمس بشكلٍ موجه بالدقة في قلب طهران وقضى على المدعو غلام رضا سليماني قائد منظمة الباسيج خلال السنوات الست الأخيرة.
⭕️تشكل قوات البسيج جزءًا من… pic.twitter.com/wzaWYxg7WY
ساتھ ہی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم نے ایرانی نظام کے قائدین کو نشانہ بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ نیتن یاہو نے آج کابینہ کے اجلاس کے دوران کہا کہ "پاسدارانِ انقلاب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور خیالی دنیا میں جی رہے ہیں"۔
واضح رہے کہ28 فروری کو جنگ چھڑنے کے بعد سے اسرائیل نے اس نیت کو نہیں چھپایا کہ وہ ایرانی نظام کو کمزور کرنے اور اس کے قائدین کو ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے گرایا جا سکے۔ امریکہ نے بھی آغاز میں اسی طرح کے جوش و خروش کا اظہار کیا تھا، تاہم بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہتے ہوئے پیچھے ہٹنے کا اشارہ دیا کہ "سکیورٹی فورسز کے تشدد اور حکومتی جبر" کی وجہ سے ایرانی عوام کے لیے یہ معاملہ مشکل ہو گا۔
واضح رہے کہ تہران پر جنگ کے پہلے ہی دن اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبد الرحیم موسوی ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیل نے ایرانی وزیرِ دفاع عزیز نصیر زادہ اور ان کے جانشین سمیت درجنوں فوجی افسران کو بھی قتل کیا ہے، جبکہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی اسی انجام کی دھمکی دی ہے۔