ایران کی جانب سے بدھ کی رات باضابطہ اعلان کیا گیا کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی 67 برس کی عمر میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں، جس کے بعد اس واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آنے لگیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق لاریجانی اپنے بیٹے مرتضیٰ ایک معاون اور کئی محافظوں کے ساتھ مارے گئے، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی فارس نے رپورٹ کیا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یہ حملہ تہران کے شمال مشرق میں واقع علاقے ''پردیس ''میں ان کی بیٹی کے گھر کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جہاں امریکی اور اسرائیلی جنگی طیاروں نے کارروائی کی۔
واضح رہے کہ پردیس کے علاقے پر منگل کی صبح تقریباً تین بجے حملہ کیا گیا تھا، جو تہران اور دیگر علاقوں پر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے متعدد فضائی حملوں کا حصہ تھا۔
حملوں کے چند گھنٹوں بعد مقامی آبادی اور ذرائع کے درمیان یہ اطلاعات گردش کرنے لگیں کہ اس مقام پر اہم سرکاری شخصیات موجود تھیں، جن میں خاص طور پر علی لاریجانی اور ایران کی داخلی سکیورٹی فورس کے سربراہ احمد رضا رادان کا نام لیا جا رہا تھا۔
• مردم شجاع
— Ali Larijani | علی لاریجانی (@alilarijani_ir) March 13, 2026
• مسئولان شجاع
• رهبران شجاع
این ترکیب را نمیشود شکست داد. pic.twitter.com/kZ17BvPvWy
اسرائیلی تصدیق
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتڑ نے منگل کو تصدیق کی کہ علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے، چند روز قبل ہی وہ تہران کی ایک سڑک پر ''یوم قدس'' کی ریلی میں حصہ لینے کے لیے نظر آئے تھے۔
اس کے بعد لاریجانی نے ایک پوسٹ میں ایکس پر لکھا: ایران کے قائدین بہادر ہیں، نہ ڈرتے ہیں اور نہ چھپتے ہیں، جو امریکی وزیر دفاع بیت ہیگسیتھ کے اس بیان کے برعکس تھا ،جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایرانی قائدین چھپے ہوئے ہیں۔
لاریجانی ملک کے ایک نمایاں مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے بہن بھائی انقلاب 1979 کے بعد اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔انہیں ایک باصلاحیت سیاستدان اور عملی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن ساتھ ہی وہ ملک کے حکومتی نظام کی حفاظت کے معاملے میں انتہائی محتاط بھی تھے۔
لاریجانی نے ایران-عراق جنگ کے دوران پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں، بعد میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن اتھارٹی کی قیادت کی، پھر سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ کے طور پر کام کیا اور پارلیمنٹ کی صدارت کا عہدہ 12 سال تک سنبھالا۔
Mr. Hegseth! Our leaders have been, and still are, among the people. But your leaders? On Epstein's island! https://t.co/iywavTegyv pic.twitter.com/rxFhzsWoq5
— Ali Larijani | علی لاریجانی (@alilarijani_ir) March 13, 2026
نظام کے اہم رہنما
علی لاریجانی سابق رہنما علی خامنہ ای کے دور کے ایک نمایاں سرکاری شخصیت نے وسیع ذمہ داریاں سنبھالیں ،جن میں حساس امور شامل تھے، جیسے مغرب کے ساتھ جوہری مذاکرات تہران کے خطے میں تعلقات کی نگرانی، اور اندرونی ہنگاموں کو کنٹرول کرنا۔اگرچہ وہ خامنہ ای کی مکمل حکمرانی کے وفادار تھے، لاریجانی کبھی کبھار انتہا پسند شخصیات کے مقابلے میں زیادہ محتاط حکمت عملی اپنانے کے حامی تھے۔ وہ ایران کے مقاصد حاصل کرنے میں کبھی کبھار سفارتی راستے پر عمل کرنے اور اندرونی مخالفین کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنے کے حامی بھی نظر آتے تھے۔
تاہم ''نسبی اعتدال'' کے باوجود رپورٹس کے مطابق انہوں نے جنوری میں ہونے والے بڑے احتجاجات کے دوران کلیدی کردار ادا کیا، جس میں ہزاروں مظاہرین ہلاک ہوئے اور اسی وجہ سے واشنگٹن نے گزشتہ ماہ ان پر پابندیاں عائد کیں، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔
28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد لاریجانی ایران کے بڑے سرکاری شخصیات میں سے پہلے تھے، جنہوں نے اس واقعے پر تبصرہ کیا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ایران کو ختم کرنے اور لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ممکنہ مظاہرین کو سخت انتباہ بھی دیا۔
یہ حملے اس جوہری پالیسی کے لیے بھی ایک مکمل ناکامی تھے ،جس میں لاریجانی نے حصہ لیا تھا اور جس کا مقصد بین الاقوامی طور پر قبول شدہ حدود میں رہتے ہوئے ایران کی جوہری صلاحیت کو بڑھانا تھا، تاکہ حملے کی راہ نہ کھلے۔