’’ القاسمیہ‘‘ پُل پر اسرائیلی بمباری، ویڈیو وائرل، یہ زمینی حملے کا آغاز ہے: لبنانی صدر

یہ پل دریائے لیطانی کے دونوں کناروں کو ملانے والا بنیادی ذریعہ تصور کیا جاتا ہے: جوزف عون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی فوج نے لبنان میں ایک اہم ’’ القاسمیہ ‘‘ پُل کو نشانہ بنا ڈالا ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے جنوبی لبنان میں اس اہم پل پر اسرائیل کی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا زمینی حملے کا پیش خیمہ ہے۔

خطرناک اشتعال انگیزی

جوزف عون نے ایک بیان میں کہا کہ دریائے لیطانی پر واقع القاسمیہ پل پر حملہ ایک خطرناک اشتعال انگیزی اور لبنان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسے ایک ایسے زمینی حملے کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے جس کی لپیٹ میں آنے سے لبنان سفارتی ذرائع سے خبردار کرتا رہا ہے۔ صدر نے اس حملے کو شہریوں کے خلاف اجتماعی سزا بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پل کو نشانہ بنانا دریائے لیطانی کے جنوبی علاقے اور باقی لبنانی علاقوں کے درمیان جغرافیائی رابطے کو منقطع کرنے کی کوشش ہے۔ یہ حملہ بفر زون قائم کرنے، قبضے کی حقیقت کو مستحکم کرنے اور لبنانی سرزمین کے اندر اسرائیلی توسیع کی مشکوک منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔

یہ بیان اسرائیلی جنگی طیاروں کی جانب سے جنوبی لبنان میں القاسمیہ پل کو کئی میزائلوں سے نشانہ بنانے کے بعد سامنے آیا جس کے نتیجے میں پل مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور سوشل میڈیا پر اس شدید اسرائیلی حملے کی ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے۔

یہ پل علاقے کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے کیونکہ اسے دریائے لیطانی کے دونوں کناروں کے درمیان ایک بنیادی رابطہ نقطہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ پل جنوبی علاقوں کو صوبہ صیدا اور دارالحکومت بیروت سے ملاتا ہے جس سے یہ شہریوں کی نقل و حرکت اور رسد کے لیے ایک اہم شریان بن جاتا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاٹز نے اعلان کیا کہ ان کا ملک حزب اللہ اور اس کے ہتھیاروں کو دریائے لیطانی کے جنوب میں منتقل ہونے سے روکے گا۔ یسرائیل کاٹز نے اتوار کو اپنے بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایات ملی ہیں کہ وہ فرنٹ لائن کے دیہاتوں میں لبنانیوں کے گھروں کی مسماری تیز کرے تاکہ شمال میں اسرائیلی علاقوں کو درپیش خطرات کو ختم کیا جا سکے۔

بڑھتی ہوئی قیمت

اسرائیلی افواج نے گزشتہ عرصے کے دوران دریائے لیطانی پر واقع طیرفلسية، الزرارية اور القاسمیہ کے پلوں کو نشانہ بنایا تھا تاکہ ان کے بقول حزب اللہ کو نقل و حرکت اور جنوبی علاقوں کے درمیان ساز و سامان منتقل کرنے سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب یسرائیل کاٹز نے دھمکی دی ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ جاری رہنے کی صورت میں لبنانی ریاست کو بنیادی ڈھانچے کے نقصان کی صورت میں بڑھتی ہوئی قیمت چکانی پڑے گی۔

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان چھڑنے والی جنگ 2 مارچ کو اس وقت لبنان تک پہنچ گئی تھی جب حزب اللہ نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں جنوب سے شمالی اسرائیل کی طرف راکٹ اور ڈرون فائر کیے تھے۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں بیروت کے جنوبی مضافات، دارالحکومت کے وسطی علاقوں کے علاوہ جنوبی اور مشرقی لبنان پر شدید بمباری کی اور اس کی افواج جنوب کے نئے علاقوں میں داخل ہو گئیں۔

لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک بچوں سمیت 1000 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے بے گھر افراد کے طور پر اپنے نام درج کرائے ہیں جن میں سے 130,000 سے زائد افراد 600 سے زیادہ اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں