مصر : والد کی اطلاع پر کم عمر بچی کی شادی کی کوشش ناکام بنا دی گئی
پراسیکیوٹر جنرل نے بچی کو اس کے خاندان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ساتھ ہی چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کو اس کی صورتحال کی نگرانی جاری رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
مصر میں "قومی کونسل برائے بچپن و مادریت" (NCCM) نے سوہاج صوبے کے ضلع ساقلتہ میں قانونی عمر سے پہلے ایک بچی کی شادی کی کوشش ناکام بنا کر اس کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں۔
کونسل کی سربراہ ڈاکٹر سحر السنباطی نے منگل کے روز ایک بیان میں وضاحت کی کہ بچوں کی امداد کے لیے قائم جنرل ڈپارٹمنٹ کو 14 سالہ بچی کے والد کی جانب سے ایک رپورٹ موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ بچی کی ماں اور نانی اس کی شادی ایک 38 سالہ شخص سے کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اطلاع ملتے ہی سوہاج میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کو واقعے کی تصدیق کے لیے مطلع کیا گیا، جس نے واقعے کی تصدیق کر دی۔ فوری طور پر پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر میں بچوں، معمر افراد اور معذوروں کے تحفظ کے بیورو کو آگاہ کیا گیا، جس نے اپنی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
دوسری جانب کونسل کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر وائل عبد الرازق نے بتایا کہ ضروری قانونی اقدامات کر لیے گئے ہیں، جن میں بچی کے خاندان سے یہ حلف نامہ لینا بھی شامل ہے کہ وہ قانونی عمر تک پہنچنے سے پہلے شادی نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی خاندان کو بچی کی دیکھ بھال اور اسے امداد فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں پراسیکیوٹر جنرل نے بچی کو اس کے خاندان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کو بچی کی صورتحال کی وقتاً فوقتاً نگرانی کرنے اور رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
بچوں کی امداد کے جنرل ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر صبری عثمان نے اس بات پر زور دیا کہ یہ واقعہ آئین کے آرٹیکل 80 کی صریح خلاف ورزی ہے، جو ریاست کو بچوں کو تشدد، بد سلوکی اور استحصال سے بچانے کا پابند کرتا ہے۔ یہ چائلڈ لاء نمبر 12 (سال 1996) اور اس کی ترامیم (قانون نمبر 126 سال 2008) کے آرٹیکل 96 کی بھی خلاف ورزی ہے جو بچے کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق ہے۔
کونسل کی سربراہ نے زور دیا کہ بچوں کی شادی ایک جرم اور بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو ان کی جسمانی و نفسیاتی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہے اور انہیں تعلیم و محفوظ زندگی سے محروم کر دیتی ہے۔ انہوں نے ایسے اقدامات کے خلاف کونسل کی جدوجہد جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔
کونسل نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے کسی بھی واقعے کی اطلاع چائلڈ ہیلپ لائن 16000 پر دیں، جو چوبیس گھنٹے فعال رہتی ہے۔
مزید برآں قومی کونسل برائے بچپن و مادریت نے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر اور صوبوں میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کی کوششوں کو سراہا، جو خطرے سے دوچار بچوں کے تحفظ اور ان کے حقوق برقرار رکھنے کے لیے فوری مداخلت کرتے ہیں۔
-
سعودی ولی اور مصری صدر کا خطے میں بڑھتی فوجی کشیدگی کے مضمرات پر تبادلہ خیال
سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے سنیچر کو جدہ میں مصری صدر ...
بين الاقوامى -
فیصلہ کرنے میں زیادہ سوچنے والے افراد کے لیے سائنس کی رہنمائی
یہ صرف زیادہ سوچنےکا معاملہ نہیں بلکہ غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کا ایک بالکل ...
ایڈیٹر کی پسند -
3حیران کن نشانیاں، کیا آپ کی شریکِ حیات آپ کی ہم روح ہے؟
عام طور پر ہم آہنگی (Compatibility) کے بارے میں ایک ایسی عام تصوراتی تصویر پیش کی ...
ایڈیٹر کی پسند