اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تہران میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک ایسے مقام کو نشانہ بنایا ہے جو پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ رضاکار فورس (بسیج) کے یونٹوں کی رہنمائی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
فوج نے ایک بیان میں کہا کہ "تہران کے قلب میں کچھ دیر قبل کیے گئے حملوں کی لہر کے دوران اسرائیلی فضائیہ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مرکزی سکیورٹی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا ہے"۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ہیڈکوارٹر پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے "یونٹوں کی سرگرمیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بسیج بریگیڈز کی رہنمائی کا بھی ذمہ دار تھا"۔
بسیج فورسز پر ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کو کچلنے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا الزام ہے، جس کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ پیر کے روز کیا گیا یہ حملہ "موجودہ آپریشنل مرحلے کا حصہ تھا جس کا مقصد ایرانی نظام کے بنیادی ڈھانچے اور اس کی سکیورٹی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے"۔
158 ایرانی جہاز تباہ
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن کے آغاز سے اب تک امریکہ 158 ایرانی جہاز تباہ کر چکا ہے۔
امریکی صدر نے ریاست ٹینیسی کے شہر میمفس میں ایک تقریب کے دوران کہاکہ "ہم نے ان کے دفاعی صنعتی کمپلیکس کو تباہ کر دیا ہے اور ہم ان کے بحری بیڑے کو ختم کرنے کے عمل میں ہیں، اب تک 158 جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں"۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے ڈرونز اور میزائل داغنے کی رفتار میں 90 فیصد سے زائد کمی آ چکی ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ شروع کیا تب سے اسرائیلی حملوں میں کئی اعلیٰ ایرانی حکام جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی، وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب اور دیگر قائدین شامل ہیں۔