عراق کےعلاقے موصل سے شام میں امریکی بیس کی جانب سات میزائل داغے جانے کی اطلاع

احمد الشرع کا شام کو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے دور رکھنے کے لیے بھرپور کوششوں کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراق کے دو سکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ موصل سے شمال مشرقی شام میں واقع امریکی بیس کی جانب میزائل داغے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پیر کے روز عراق کے علاقے ربیعہ سے شمال مشرقی شام میں ایک امریکی فوجی اڈے کی جانب کم از کم سات میزائل داغے گئے۔ تاہم ان ذرائع نے اس حملے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

خبر رساں ایجنسی "رائٹرز" کے مطابق مغربی موصل کے علاقے ربیعہ میں میزائل لانچر برآمد کر لیا گیا ہے اور شام کی جانب سات میزائل داغنے کے لیے استعمال ہونے والی ایک جلی ہوئی گاڑی کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بھی عراقی سرزمین سے شام کی طرف میزائل حملہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے اربیل میں امریکی قونصل خانے کے اوپر ایک بارود بردار ڈرون کو مار گرایا ہے۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے عراق بھی ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں اس تنازعے کی چنگاریاں پہنچی ہیں۔ تہران نواز عراقی مسلح گروہوں کے کئی صدر دفاتر پر فضائی حملے کیے گئے ہیں جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ امریکہ نے کیے ہیں۔ دوسری جانب مسلح گروہوں نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کے علاوہ دیگر امریکی مفادات اور اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ "عراق میں اسلامی مزاحمت" کے نام سے پہچانے جانے والے تہران نواز عراقی گروہوں نے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر عراق اور خطے میں موجود اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، تاہم اکثر اوقات وہ اپنے اہداف کی وضاحت نہیں کرتے۔

شام کو کسی بھی لڑائی سے دور رکھنے کا عزم

یاد رہے کہ شامی صدر احمد الشرع نے گذشتہ جمعہ کو اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ، جس نے پڑوسی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے کے تناظر میں اپنے ملک کو کسی بھی جنگ سے دور رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دمشق کے تمام علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات خوشگوار ہیں۔

دمشق میں قصرِ الشعب میں نمازِ عید الفطر کی ادائیگی کے بعد اپنے خطاب میں احمد الشرع نے کہا کہ "اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ تاریخ کا ایک نادر اور بڑا واقعہ ہے، ہم اپنے اقدامات کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور شام کو کسی بھی تنازعے سے دور رکھنے کے لیے کوشاں ہیں"۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ شام گذشتہ 15 برسوں اور اس سے پہلے بھی ہمیشہ سے ہی جنگ و جدل کا میدان رہا ہے، لیکن آج اس کے تمام پڑوسی علاقائی اور بین الاقوامی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہیں اور ساتھ ہی ہم عرب ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں