لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین میدانی صورتحال کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوبی ضاحیہ، جنوب کے متعدد علاقوں، بقاع اور ملک کے مشرقی حصوں کو نشانہ بناتے ہوئے بمباری کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جبکہ یہ حملے جبلِ لبنان کے علاقوں تک بھی پھیل گئے ہیں۔
اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان میں دریائے لیطانی کے جنوبی علاقے کو اس وقت تک اپنے کنٹرول میں رکھے گی جب تک "حزب اللہ" کا خطرہ ختم نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل اپنے شمالی علاقوں کی سکیورٹی یقینی بنانے سے قبل جنوبی لبنان سے گذشتہ دنوں بے گھر ہونے والے افراد کو واپس جانے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوج باقی ماندہ پلوں پر بھی کنٹرول حاصل کر لے گی، جبکہ انہوں نے اشارہ دیا کہ "سکیورٹی زون" اب لبنان میں دریائے لیطانی تک پھیلا دیا جائے گا۔
دوسری جانب لبنانی وزارتِ صحت نے ایک سرکاری بیان میں بتایا ہے کہ ملک پر جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک آٹھ افراد جاں بحق اور 11 دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔ وزارتِ صحت کے تحت کام کرنے والے ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ جبلِ لبنان کے ضلع عالیہ کے قصبے بشامون پر حملے میں تین افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک تین سالہ بچی بھی شامل ہے، جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔
مرکز نے نشاندہی کی کہ ضلع صور کے قصبوں پر ہونے والے حملوں میں سلعا کے مقام پر دو افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے، صریفا میں تین افراد جاں بحق اور عیتیت میں دو افراد زخمی ہوئے۔
ایک اسرائیلی ڈرون طیارے نے بشامون کے قصبے میں ایک رہائشی یونٹ کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے آج صبح جنوبی قصبے الغسانیہ پر حملہ کیا، جبکہ آج فجر کے وقت جنوبی قصبوں کی ایک بڑی تعداد پر سلسلہ وار غارات کی گئیں۔
آج فجر کے وقت جنوبی لبنان کے قصبے زفتا میں ایک گھر کو نشانہ بنا کر اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ صربین، حارص، طیردبا، رشاف، دیر انطار اور تولین کے قصبوں پر بھی فجر کے وقت حملے کیے گئے۔ گذشتہ رات جنوبی لبنان کے قصبے السریرہ کے گرد و نواح پر دو اسرائیلی حملے کیے گئے۔
لبنان کی سرکاری "نیشنل نیوز ایجنسی" کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے الرشیدیہ قصبے کی شاہراہ پر اور البرغلیہ کے مقام پر "الامانہ" فیول اسٹیشنوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے قصبوں البرغلیہ اور الرشیدیہ کے مکینوں کو فوری وارننگ جاری کرتے ہوئے گھر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
نیشنل نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ رات اسرائیل نے بیروت کے جنوبی ضاحیہ پر سات فضائی حملے کیے۔ ایجنسی کے مطابق ان حملوں میں بئر العبد، الرویس (منشیہ کے مضافات)، حارہ حریک، آٹوسٹراڈ سید ہادی نصر اللہ، سینٹ تریز، برج البراجنہ اور الکفاءات کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے "رضوان یونٹ" کے جنگجوؤں کو اسلحہ اور جنگی ساز و سامان سمیت "گرفتار" کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اس سے قبل پیر کے روز بیروت کے قریب حازمیہ کے علاقے میں ایک اپارٹمنٹ پر حملے میں ایک شخص جاں بحق ہوا تھا۔ یہ علاقہ صدارتی محل، سفارتی مشنوں، سفراء کے دفاتر، سرکاری اداروں اور پرتعیش رہائشی عمارتوں کے قریب واقع ہے۔ اسرائیل نے بعد میں دعویٰ کیا کہ جاں بحق ہونے والا شخص ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا رکن تھا۔
اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کے جواب میں حزب اللہ کی جانب سے دو مارچ کو اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان جنگ دوبارہ چھڑ چکی ہے۔ اسرائیل لبنان بھر میں غارات کے ذریعے اس کا جواب دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں لبنانی حکام کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے گذشتہ چند دنوں سے جنوبی لبنان میں لبنانی حدود کے اندر پیش قدمی شروع کر رکھی ہے۔