ٹرمپ ایک عالمی ٹائم مینجر، تاخیری حربے استعمال کرنے والے خبردار رہیں
دنیا کے بہت سے دارالحکومت پہلے سے جاری انتظامی بحرانوں کی گرفت میں ہیں۔ جبکہ واشنگٹن میں ایک ٹائم مینجر کی صورت میں ایک ٹرمپ موجود ہیں۔ ایک ٹائم مینیجر ہونے کے ناطے انہوں نے وقت کے بہترین استعمال اور بروقت فیصلوں کو اپنی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں مرکزی مقام دے رکھا ہے۔
بھلے امریکی انتخابات سے جڑا کیلنڈر کسی فائل کو حتمی مرحلے تک پہنچانے اور اس معاملہ کو طے کرنے میں تاخیر کا متقاضی ہو۔ جیسا کہ یوکرینی جنگ کا معاملہ ہے موسم بہار کے اختتام تک ملتوی رکھا جا سکتا ہے۔ تاکہ صدر ٹرمپ اسے آسانی سے اس وقت تک آگے کھینچ کر وسط مدتی انتخاب میں ری پبلکن امیدواروں کے لیے یوکرین جنگ کے خاتمے کو انتخابی فائدے کی صورت استعمال کر سکیں۔
اس کے برعکس کئی ایسے بحران ہیں جو طے شدہ ڈیڈ لائنز کے ساتھ ہیں۔ مگر ان سے متعلق لوگ اور ملک ڈیڈ لائنز پورا کرنے کے بجائے وقت حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقت کو کھو رہے ہیں اور تھکارہے ہیں۔ حزب اللہ اور حماس اس تناظر میں اہم ہیں۔ جبکہ امریکی صدر نے ان دونوں کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے صدر ہیں جو مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ جو مسائل کے خاتمے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں ایک عالمی ٹائم مینجر کہا جانا جو اپنے طے شدہ ٹائم فریم کے مطابق امن کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایسا امن کہ کوئی دوسرا ملک نئی جنگیں شروع کر سکے نہ ہی دنیا میں معاملات میں لمبی لمبی تاریخیں دینے کا کلچر باقی رہے۔ بلکہ اس کے برعکس مختصر وقت میں چیزیں طے کرنا ممکن ہو سکے۔ ان کی موجودگی صاف پیغام ہے کہ دباؤ نپا تلا ہے اور مواقع بھی محدود ہیں۔
مگر جو لوگ اس پالیسی کو اختیار کرنے میں پس و پیش کرتے ہیں یا اس کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے اسے کم اہم سمجھتے ہیں وہ بھی غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ امریکی طاقت کا ایک نیا تعارف ہے۔ اس نئے تعارف کے تحت امریکہ گولی کی طاقت کے بجائے گھڑی کی طاقت کو استعمال کرنے کا رجحان رکھتا ہے۔
جبکہ دنیا میں کچھ ایسے کھلاڑی بھی ہیں جو اس طرح معاملات کو چلانے اور طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے وقت محض ایک غیر جانبدار شراکت دار ہو اور اسے جب چاہیں توڑ مروڑ بھی سکتے ہیں اور آگے پیچھے بھی کر سکتے ہیں۔ ان میں کئی علاقائی کھلاڑی ایسے ہیں جو اسی سرگرمی میں رہتے ہیں کہ مزید اور مزید وقت حاصل کریں، اپنے حصے کی ذمہ داری نبھانے کے بجائے اسے التوا میں ڈالنے کی کوشش میں رہیں۔ وہ امریکہ کے مزاج میں تبدیلی کے بھی منتظر رہتے ہیں اور کسی اور ترجیح کی امید بھی کرتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ ایسے بھی ہیں جو دوسری مصروفیات کے لیے بھی شرط لگانے کی مہارت کا استعمال کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
ان علاقائی کھلاڑیوں کے مقابل صدر ٹرمپ انتظامیہ مختلف مزاج کی حامل اور رواج کی عادی ہے۔ امریکہ کی یہ انتظامیہ تاخیر کے عادی مرتکب لوگوں کو کوئی انعام دینے والی ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ انہیں اپنے آپ کو دھوکہ دینے کا موقع دیتی ہے اور بعد ازاں انہیں احساس ہوتا ہے کہ انہیں جو وقت ملا تھا وہ ان کے لیے ایک موقع نہیں ایک دھوکہ تھا۔
واقعہ یہ ہے کہ اس اپروچ کو کسی ایک تقریر یا الگ تھلگ فیصلے کی بنیاد پر نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن مسلسل ملنے والے اشاروں سے تو سمجھا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ حماس کو دی گئی مہلت کی صورت میں دی گئی ڈیڈ لائن کا مقصد بھی یہی ہے۔ اسی طرح یوکرین کو غیر محدود وقت کا مل جانا در حقیقت یورپی ملکوں کے لیے ایک وارننگ ہے کہ اب انہیں لمبے عرصے تک یورین کی سلامتی کی قیمت اپنے بجٹ سے چکانا ہو گی۔ یقینا اس حکمت عملی سے یورپ پر بھی دباؤ بڑھایا گیا ہے۔
ادھر ایران کا راستہ روکنے کے لیے اس کی رجیم کو اندرونی طور پر 'بلیڈ' کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح اسرائیل کی پالیسیوں کے معاملے میں حمایت اور مدد کے معاملے میں امریکہ کا مشروط سا انداز اختیار کرنا اور واشنگٹن پر کسی خاص وقت کی پابندی کا بوجھ نہ آنے دینا۔
ان ساری فائلوں میں ایک واضح پیغام یہ ہے کہ امریکہ کے پاس کسی اور کے لیے کوئی کھلا وقت موجود نہیں ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ جو لوگ بھی اس بات کو بر وقت نہیں سمجھ سکیں گے وہ بعد میں اس ناسمجھی کی قیمت چکائیں گے۔
اس مرحلے پر یہ بھی دیکھنا بہتر ہوگا کہ صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کی حالیہ ملاقات کے نتیجے میں کیا نئی چیزیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ اس ملاقات کے بعد حماس، حزب اللہ، ایران اور حماس کے لیے انتباہات سامنے آئے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ انتباہات کسی ٹائم فریم کے بغیر نہیں ہیں۔
تزویراتی تحمل!
ایران میں جس چیز کو تحمل اور برداشت کا معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔ حقیقت میں یہ ایران کی گردن پر رکھی گئی ایک تلوار ہے۔
ایران یہ سمجھتا ہے کہ جو وقت اسے دیا جا رہا ہے اس کے لیے مہلت ہے اور وہ اس دوران کچھ ادھر ادھر رابطے کر لے گا۔ کچھ عذر تراشنے اور وقت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے لیے اسی دوران اندرونی اور بیرونی جال بنے جائیں گے جو اس کے لیے خطرے کا باعث بنیں گے۔
ایران میں جاری سماجی ایشوز اور معاشی حالات کے حوالے سے شروع ہونے والا احتجاج اس سلسلے کی ایک گھنٹی ہے۔ کہ ایک طرف احتجاج شدت پکڑ رہا ہے تو دوسری جانب ایرانی اداروں پر عوامی اعتماد کمزور تر ہو رہا ہے۔ اس سب سے نظر آ رہا ہے کہ جو بھی اضافی وقت دیا گیا تھا وہ ختم ہو چکا ہے۔ اب اگر مزید دیر کی جائے گی تو اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ پھر عملی کارروائی ہو جائے گی۔
اس صورت میں یہ امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایرانی رجیم کی کمر اسی دوران ٹوٹ جائے۔ ایران کے پڑوسیوں کو خوف ہے کہ بد امنی اور افراتفری انہیں بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔
اب وقت کے ملے رہنے کا بھروسہ کرنا درست نہیں ہو سکتا ہے۔ ایرانی رجیم کا جوہری پروگرام میں اصلاحات کیے بغیر اب قائم رہنا مشکل ہو گا۔ اسی طرح اب میزائل پروگرام کے سلسلے میں بھی ایران کو اصلاحات کرنا ہوں گی اور خطے میں اپنی 'پراکسیز' کی پالیسی پر بھی نظر ثانی کرنا ہو گی۔
ہر گزرنے والا دن جو تاخیری حربوں کی پالیسی کے باعث گزرتا ہے وہ سوائے امریکی و علاقائی صبر پر انحصار کے گزرنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس قدر تاخیر ہو رہی ہے یہ سب ایران کے مفاد میں ہو رہی ہے ۔ یہ ایران کے گرد گھیرا مزید تنگ کیے جانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔
یہ بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ اس تاخیر کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں ایران میں اندرونی و بیرونی سطح پر ہونے والے ہر اقدام اور ہر واقعات اس کی رجیم کی بقا کے بارے میں فیصلے کا باعث بنیں گے۔ اگر ایرانی رجیم اب بھی یہ سمجھے گی کہ وقت اس کے ساتھ ہے تو بالآخر اس کے پاس پیچھے ہٹنے کی بھی گنجائش نہ بچے گی۔
امریکی ڈیڈ لائن کو سمجھنے میں غلطی کرنا یا سیاسی دباؤ کی شدت میں اضافہ ہوتے چلے جانے کے باوجود اس کی سنگینی کو نہ سمجھنا ایران اور اس کی 'پراکسیز' کے لیے خطرات کا باعث بنے گا۔
مزاحمت کا محور
غزہ اور لبنان کارزار کے ان میدانوں میں سب سے آگے ہیں جو ایران کے تزویراتی مسائل کی سب سے زیادہ بھاری قیمت ادا کریں گے۔ لبنان ایک طویل عرصے سے حزب اللہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
حزب اللہ کی سخت جانچ اور نگرانی کا عمل جاری ہے۔ اس دوران اس کی تکبرانہ جارحیت اور اشتعال انگیزی حزب اللہ کے لیے امریکی ٹائم فریم واضح انداز میں پورا کر لیا جائے گا۔
اسرائیل کے لیے امریکی تحفظ کا اہتمام ختم نہیں ہوا ہے۔ اس لیے دوسری جانب کھڑے فریق کو ہوشیار رہنا چاہیے۔
حماس کو بھی امریکہ کی طرف سے دو ماہ کی مدت دی گئی ہے۔ اس دوران اس کے اختیارات محدود ہیں۔ لہذا حماس بھی کسی تاخیر یا وقت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر کے اپنے لیے مواقع ضائع کرے گی۔
بلاشبہ اس کے نتیجے میں جنگ بندی معاہدے کی ضامن مملکتوں کو تزویراتی اعتبار سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ریڈ لائن کے خاتمے کے بعد رعایت کا امکان نہیں ہوگا۔
حماس اور حزب اللہ کے ہتھیاروں کو منجمد کرنے ، ان کے پاس رکھنے یا کسی عبوری منتقلی کے حوالے سے ہونے والی باتیں نہ صرف فلسطینیوں اور لبنانیوں کے لیے خطرناک چال ثابت ہو سکتی ہیں بلکہ ایران کے لیے بھی یہ مرحلہ خطرے کا باعث ہوگا۔
اسرائیل ان تمام محاذوں پر ایک اہم کھلاڑی ہے جسے اپنے تزویراتی امکانات بڑھنے کے لالچ کی وجہ سے خود بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کا یہ لالچ اسے کسی دھوکے میں بھی ڈال سکتا ہے اور جب تک اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت سے انکار کرتا رہے گا وہ سخت خطرے میں رہے گا۔
عالمی سٹیج
عالمی سٹیج پر مہلت کی گھڑی یوکرین اور روس کی جنگ کے لیے ٹک ٹک کر رہی ہے۔ چین کی پریشانی اور وینزویلا کی کشیدگی وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔
یوکرین توازن کو برقرار رکھنے کے اعتبار سے امریکہ، ماسکو اور یورپ کے لیے ایک امتحان ہے۔ اس سلسلے میں ماسکو اور یورپ کے لیے کامیابیوں کے آثار کے باوجود وقت کے ساتھ ساتھ دھماکے بھی قریب لگتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے لیے ایک ٹائم لائن مقرر کر رکھی ہے کہ وہ بڑی کامیابیاں کب اور کیسے حاصل کرے گی۔ امریکہ کی یہ ٹائم لائن یوکرین جنگ کے خاتمے اور امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے درمیان موجود ہے۔ تاکہ امریکہ اس بڑی کامیابی کا اپنی ری پبلیکن پارٹی کے لیے فائدہ اٹھا سکے۔ کیونکہ امریکہ اور یورپ یہ سمجھتا ہے کہ یوکرین جنگ کا خاتمہ بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہو گی۔
جنگ کے خاتمے کے سلسلے میں کوشش اور کامیابی کی شہ سرخی یہ ہے کہ امریکہ روس کو شکست دینے کی کوشش میں نہیں بلکہ ایک توازن بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتوں کا بوجھ بڑی حد تک یورپ کو برداشت کرنا پڑے گا۔
اگلے چار ماہ کے دوران امریکہ، یورپ اور یوکرین کا سیاسی مذاکراتی عمل جاری رہے گا۔ جبکہ روس اس دوران وقت کے خلاف اپنی فوجی دوڑ میں مصروف رہے گا۔ کیونکہ روس سمجھتا ہے کہ وقت اس کے حق میں نہیں جا رہا اور اگر امریکہ نے وقت کی اس رفتار کو کنٹرول میں رکھنا جاری رکھا تو ماسکو کے آقاؤں کو وقت کے اس کھیل کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔
ایشیا میں چین کو سیاسی و معاشی کشیدگی کا سامنا ہے۔ اس کی راہ میں تجارتی پابندیاں بھی حائل ہیں اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی مشکلات بھی۔ لیکن اس کی یہ سب مشکلات براہ راست کسی فوجی تصادم کے بغیر ہیں۔
چین کو اس صورتحال سے نکلنے کے لیے وقت درکار ہے۔ جبکہ ٹرمپ نے اس سلسلے میں ایک واضح فارمولا ترتیب دیا ہے۔ جس کے تحت چین امریکہ کا ایک تزویراتی مخالف ہے نہ کہ براہ راست فوجی دشمن۔
اس لیے چین کو وقت بھی مفت میں نہیں ملے گا۔ ٹرمپ ماہ اپریل میں چین کے دورے پر جانے والے ہیں جو اس ٹائم فریم کی رفتار کا تعین کرے گا جو دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوڑ کی شکل میں جاری ہے۔ یقیناً یہ بات امریکہ اور چین دونوں کے ایجنڈے پر ہوگی۔
وینزویلا جہاں پر امریکی پالیسی مداخلت کی صورت میں سامنے آئی ہے امریکہ کی کوشش ہو گی کہ وہ وینزویلا میں روس اور چین کا راستہ روکے اور ان کے مفادات کو محدود کرے۔ اس سلسلے میں ٹرمپ وینزویلا کا کنٹرول سنبھالنے میں عجلت میں نظر آتے ہیں۔
ٹرمپ کا واضح پیغام
ان تمام نتائج میں ٹرمپ کی طرف سے یہ واضح پیغام ہے کہ جو ملک بھی یہ سمجھتا ہے کہ وہ امریکہ سے وقت حاصل کر رہا ہے وہ غلط فہمی میں ہے۔ حقیقتا وہ اپنا وقت ضائع کر رہا ہے اور اس کی مہلت ختم ہو رہی ہے اور اسے لازما سمجھنا چاہیے کہ وقت کم ہوتا جا رہا ہے اور مواقع محدود تر۔
جو ملک بھی اس کو سمجھنے میں غلطی کر رہے ہیں وہ اس کی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوں گے اور جو اس پیغام کو سمجھنے میں کامیاب ہو جائیں گے وہ اپنے لیے خطرات کو کم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے۔