لیطانی دریا تک قبضے کے اسرائیلی منصوبے کے خلاف جنگ لڑیں گے : حزب اللہ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے اسرائیل کے لبنانی علاقے پر قبضہ کر کے اپنی سرحد لیطانی دریا تک پھیلانے کے منصوبے کی مزاحمت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان میں قبضے کی کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا اور یہ اسرائیلی منصوبہ کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

لبنان کی پالیمنٹ کے رکن اور حزب اللہ کے رہنما حسن فضل اللہ نے اپنے ایک ردعمل میں دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کا یہ منصوبہ لبنانی ریاست کے وجود کے لیے خطرے کا باعث ہوگا۔ اس لیے اسرائیل کو اس قبضے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یاد رہے پچھلے تقریبا ڈیڑھ سال سے اسرائیل کا لبنانی حکومت سے مطالبہ رہا ہے کہ جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی سے جڑے علاقے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے اور اس کا علاقے میں اثر ختم کیا جائے۔ اب منگل کے روز اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی شمالی سرحد کی طرف سے دریائے لیطانی کے ساتھ جڑا علاقہ سیکیورٹی زون بنانے کے لیے اسرائیلی فوج کو قبضے میں لینا ہوگا۔ یہ علاقہ دریائے لیطانی کے ساتھ 30 کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

بعد ازاں اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے فوج کے ایک کمانڈ سنٹر کے دورے کے موقع پر کہا اسرائیلی فوج دریائے لیطانی تک کے سارے علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے گی۔ کاٹز نے اپنے بیان میں مزید کہا دریائے لیطانی پر موجود پانچوں پلوں کو حزب اللہ دہشت گردی اور ہتھیاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس لیے اس سارے علاقے کو اسرائیلی فوج قبضے میں لے لے گی۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی اطلاع دی ہے کہ اس نے دریائے لیطانی پر قائم ایک پل کو تباہ کر دیا ہے۔ فوجی بیان کے مطابق یہ پل حزب اللہ کے لوگ بھی استعمال کرتے تھے۔ اسی راستے سے راکٹوں اور ڈرون طیاروں کی نقل و حمل کی جاتی تھی۔

جبکہ وزیر دفاع کاٹز نے مزید کہا جاری جنگ کے دوران جن ہزاروں لاکھوں لبنانیوں کو علاقے سے نقل مکانی کرنی پڑی ہے وہ اب دریائے لیطانی کے اس علاقے میں واپس نہیں آسکیں گے۔ جب تک اسرائیل اپنے شمالی علاقوں کے لیے سیکیورٹی ممکن نہیں بنا لیتا۔ حزب اللہ نے ان اسرائیلی منصوبوں کو مسترد کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size