امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہوئے:پاکستان میں ایرانی سفیر
تہران کی مذاکرات کی بحالی کے لیے سخت شرائط
پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات کے انعقاد کی تردید کر دی ہے۔ یہ تردید امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش رفت کے دعوے کے بعد سامنے آئی ہے۔
سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ہم نے بھی میڈیا کے ذریعے اس نوعیت کی تفصیلات سنی ہیں لیکن میری معلومات کے مطابق اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں کے برعکس اب تک دونوں ممالک کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک فطری بات ہے کہ دوست ممالک اس غیر قانونی جارحیت کے خاتمے کے لیے ہمیشہ دونوں فریقین کے ساتھ مشاورت میں مصروف رہتے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران امریکہ کے ساتھ تنازعے میں ثالثی کے معاملے پر دوست اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹی وی چینل انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ خطے کے اور بیرونی ممالک سمیت کئی ریاستوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کے لیے تہران سے رابطہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ایران اپنے پڑوسیوں اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ اسی طرح کے مذاکرات کر رہا ہے اور ہم ممکنہ اثرات کے حوالے سے خطے کے ممالک اور اپنے پڑوسیوں کی تشویش کو سمجھتے ہیں۔ ہم سب کسی نہ کسی طریقے سے صورتحال کے استحکام اور امن کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔
مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کے بارے میں ایک سوال پر اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ہمارے وزیر خارجہ اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ رابطے میں ہیں اور وہ دیگر کئی پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ بھی گفتگو کر رہے ہیں۔
ایران کی کڑی شرائط
دوسری جانب ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی نمائندوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو مطلع کیا ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے انتہائی سخت شرائط رکھ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق تہران کا مطالبہ ہے کہ خلیجی خطے میں تمام امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں اور جنگ کے دوران ایران کو نشانہ بنانے والے حملوں کا ہرجانہ ادا کیا جائے۔ ان شرائط میں آبنائے ہرمز میں نئے انتظامات کا نفاذ بھی شامل ہے جس کے تحت ایران وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کر سکے گا۔
ایران کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ دوبارہ جنگ چھڑنے کو روکنے کی ضمانت دی جائے اور لبنان میں حزب اللہ پر ہونے والے اسرائیلی حملے بند کیے جائیں۔ ایران اس بات پر بھی بضد ہے کہ اس پر عائد تمام پابندیاں مکمل طور پر ختم کی جائیں جبکہ وہ اپنے میزائل پروگرام کو کسی بھی مذاکرات یا کمی لانے کی کوششوں سے باہر رکھنے پر اصرار کر رہا ہے۔
دوسری طرف ایک امریکی عہدیدار نے ان مطالبات کو غیر حقیقی اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شرائط کا یہ بلند معیار کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کے عمل کو جنگ کے آغاز سے پہلے کی نسبت زیادہ مشکل بنا دے گا۔
ویب سائٹ ایکسیس نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی فریق نے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کی کوشش کرنے والے ثالث ممالک کو واضح کر دیا ہے کہ وہ گذشتہ ادوار میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں دو بار دھوکہ کھا چکے ہیں اور اب دوبارہ دھوکہ نہیں کھانا چاہتے۔
ایکسیس کے مطابق ایرانی حکام نے ثالثی کرنے والے ممالک پاکستان، مصر اور ترکیہ کو بتایا ہے کہ امریکی فوجی نقل و حرکت اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی کمک بھیجنے کے فیصلے نے ان کے شکوک و شبہات میں اضافہ کر دیا ہے کہ امن مذاکرات کی تجویز محض ایک چال ہے۔
-
شرقِ اوسط جنگ: بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلمان ایران کے لیے چندہ جمع کرنے لگے
کشمیریوں کے نزدیک ایرانیوں کی مدد ایک انسانی اور مذہبی فریضہ ہے
بين الاقوامى -
ایرانی فوجی اہلکار کا امریکیوں پر طنز: ''آپ خود سے مذاکرات کر رہے ہیں''
بدھ کے روز ایک ایرانی فوجی اہلکار نے امریکہ کے اس دعوے پر طنز کیا کہ وہ جنگ بندی ...
مشرق وسطی -
بحیرۂ کیسپیئن میں اسرائیل کا حملہ، ایران کو روسی اسلحہ کی ترسیل روکنے کی کوشش
ذرائع کے مطابق اسرائیل نے بحیرۂ کیسپیئن میں ایک بحری ہدف پر حملہ کیا، جس کا مقصد ...
بين الاقوامى