اے آئی کمپنی ٹورنگ سعودی ہیومین ون کی امریکہ میں قائم پہلی صارف بن جائے گی۔ ایک مرکز اور جدید اے آئی ٹیکنالوجیز کے برآمد کنندہ کا مقام حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب جو عزائم رکھتا ہے، یہ معاہدہ اُنہیں نمایاں کرتا ہے۔
سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ہیومین اور ٹورنگ نے جمعرات کو ایک شراکت داری کا اعلان کیا جس کا مقصد اے آئی ایجنٹس کے لیے انٹرپرائز پیمانے کی پہلی مارکیٹ کا قیام ہے۔
یہ اقدام جس کا اعلان میامی میں FII priority Summit میں کیا گیا، ہیومین ون کے نام سے ایک نئے پلیٹ فارم پر ہے جو اے آئی ایجنٹس کو تنظیموں کو روزمرہ کے کاروباری کاموں میں ضم کرنے میں مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ تصور ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح کمپنیوں سے سافٹ ویئر استعمال کرنے کی توقع ہے۔
روایتی ایپس پر انحصار کرنے کے بجائے ہیومین اور ٹورنگ کمپنیاں ایجنٹِک سسٹمز پر انحصار کر رہے ہیں۔ یہ اے آئی ٹولز آزادانہ طور پر دفتری کاموں کی انجام دہی، انسانوں سے تعاون اور وقت کے ساتھ ان سے موافقت پیدا کر سکتے ہیں۔
اس مارکیٹ پلیس سے کاروباری اداروں کے لیے انسانی وسائل، مالیات، قانونی کام اور خریداری جیسے امور کے لیے خصوصی ایجنٹس کو براؤز اور تعینات کرنا ممکن ہو گا۔
ہیومین ون کا بنیادی مقصد ان سسٹمز کے لیے ایک آپریٹنگ پرت کے طور پر کام کرنا ہے جن میں انفراسٹرکچر، اے آئی ماڈلز اور آرکیسٹریشن ٹولز یکجا ہو جائیں۔
ٹورنگ ایجنٹس کے پسِ پردہ ذہانت کو بہتر بنانے بشمول ماڈل کے جائزے، استدلال کی صلاحیتوں اور انٹرپرائز کی تعیناتی پر توجہ مرکوز کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی کمپنیاں امید کرتی ہیں کہ اے آئی کے تجرباتی استعمال سے پروڈکشن گریڈ سسٹمز کی طرف منتقلی تیز ہو گی۔
مارکیٹ پلیس کا مقصد ڈویلپرز کے لیے نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔ بلڈرز اے آئی ایجنٹس کو شائع اور منیٹائز کرنے کے قابل ہوں گے جو ممکنہ طور پر وقوع پذیر ماحولیاتی نظام میں کردار ادا کریں گے۔ یہ نظام ایپ سٹورز کی طرح لیکن انٹرپرائز آٹومیشن کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
مزید برآں یہ شراکت داری نظم و نسق اور حفاظت پر زور دیتی ہے جو ایک معیار قائم کرنے کی کوشش کی طرف اشارہ ہے کہ اے آئی ایجنٹس کو کس طرح تیار اور تعینات کیا جاتا ہے۔