امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے ان کے ملک کو 10 بحری جہازوں پر مشتمل تیل کا تحفہ دیا ہے جن پر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے بھی خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی مہلت میں 6 اپریل تک توسیع کر دی ہے۔
تاہم مشرق وسطیٰ کی سنگین صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور مصر کی قیادت میں جاری حالیہ مذاکرات شاید کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں۔
خبر رساں ادارے "ڈی پی اے" کے مطابق تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ فریقین کے درمیان پائے جانے والے اختلاف اور جاری تنازع کی وسعت کے پیش نظر کسی فوری معاہدے کا امکان بہت کم ہے۔
TRUMP: I told you about a present. Steve, can I reveal the present?
— Aaron Rupar (@atrupar) March 26, 2026
WITKOFF: You can do anything you want, sir
TRUMP: They said to show you the fact that we're real and solid and we're there, we're gonna let you have eight boats of oil. Eight big boats of oil. I think they… pic.twitter.com/v9XF1UCtGQ
ایرانی جانب نے امریکی صدر کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے کے لیے 5 شرائط پیش کی ہیں۔ ان میں سرِ فہرست ریاست کی باقی ماندہ قیادت کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں اور ان کے قتل کا سلسلہ روکنا، جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے ٹھوس ضمانتیں فراہم کرنا، نقصانات کا معاوضہ حاصل کرنا، خطے میں ایران کے حلیفوں کے خلاف تمام محاذوں پر فوجی آپریشنز ختم کرنا اور آبنائے ہرمز پر تہران کی حاکمیت کے "حق" کو تسلیم کرنا شامل ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق ثالثوں نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی فریق نے مذاکرات کی مہلت میں توسیع یا توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کی کوئی درخواست نہیں کی، اور نہ 15 نکاتی منصوبے پر اب تک کوئی حتمی جواب دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز کے 15 میں سے 3 نکات پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق ایک سینئر سکیورٹی اہل کار نے واضح کیا کہ تہران کے پاس ہفتوں تک میزائل داغنے کی صلاحیت موجود ہے، جبکہ تل ابیب نے واشنگٹن کو مطلع کیا ہے کہ اسے ایران میں "اہم اہداف" کو نشانہ بنانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
اس پیچیدہ صورت حال اور متضاد بیانات کے سائے میں، عالمی معیشت پر اس تنازع کے اثرات ایک تلخ حقیقت بن کر سامنے آ رہے ہیں اور دنیا کشیدگی کے اس خطرناک سلسلے کے خاتمے کی منتظر ہے۔ اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
خاص طور پر جب خطے میں فوجی نقل و حرکت بڑھ رہی ہے اور آج ہی امریکی حکام نے مزید 10 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا انکشاف کیا ہے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ دوسری بار مہلت دی گئی ہے۔ اس سے قبل پیر کے روز انہوں نے ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملے 5 دن کے لیے روکنے کا حکم دیا تھا جو آج جمعہ کی شام ختم ہو رہا تھا۔