امارات نے عارضی حل مسترد کر دیے ... خطے میں پائیدار سکیورٹی پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

خلیجی ممالک کی فضائی حدود کی مسلسل ایرانی خلاف ورزیوں اور ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے دوران، متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ابوظبی کا یہ پختہ یقین ہے کہ سیاسی حل ہی خطے میں پائے دار امن کی ضمانت ہے۔

انور قرقاش نے آج ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ میں لکھا "بعض صحافتی اداروں نے متحدہ عرب امارات کے موقف کی تشریح میں مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے، اس لیے اسے صحیح تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ ہمیں گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران کی جانب سے شدید جارحیت کا سامنا ہے جو ہماری ریاست اور اہم ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے اور شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، جس کا ہم استقامت اور مہارت سے مقابلہ کر رہے ہیں، کیونکہ خود مختاری اور وطن کا دفاع ایک اعزاز اور ذمہ داری ہے"۔

انہوں نے مزید تاکید کی کہ ملک کا یہ یقین راسخ ہے کہ "سیاسی حل کو ہی خطے کی پائے دار سلامتی کا ضامن ہونا چاہیے اور ایسے عارضی حل قبول نہیں جو آنے والی کئی دہائیوں تک عدم استحکام کا باعث بنیں"۔

یہ بیان متحدہ عرب امارات کی جانب سے آج اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے حملے کے بعد ایک صنعتی علاقے میں دو مقامات پر آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔

متحدہ عرب امارات نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی طرف سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہوئے ایک ماہ گزر جانے کے باوجود تہران خلیجی ممالک پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے "ایکس" پر لکھا "اماراتی فضائی دفاعی نظام اور جنگی طیارے ایران کی طرف سے آنے والے میزائل حملوں اور ڈرونز سے نمٹ رہے ہیں"۔

بعد ازاں ابوظبی میڈیا آفس نے بتایا کہ ابوظبی کی انتظامیہ نے خلیفہ اکنامک زونز ابوظبی کے گردونواح میں لگنے والی دو مختلف مقامات پر لگنے والی آگ پر قابو پا لیا ہے۔ یہ آگ ایک "بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے گرائے جانے کے بعد اس کے ملبے کے گرنے" کی وجہ سے لگی تھیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ "اس واقعے کے نتیجے میں بھارتی شہریت رکھنے والے 5 افراد زخمی ہوئے جن کے زخموں کی حالت درمیانی اور معمولی بتائی گئی ہے"۔

گذشتہ ماہ 28 فروری کو جنگ چھڑنے کے بعد سے، ایران نے امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کے دعوے کے ساتھ خلیجی ممالک کی جانب سیکڑوں میزائل اور ہزاروں ڈرونز فائر کیے ہیں۔ تاہم فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے اکثر کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ کچھ نے شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں