"تہران کے ساتھ معاہدے میں تاخیر ہو سکتی ہے"... امریکی ذرائع

وائٹ ہاؤس نے اتحادیوں کو خفیہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی توقع رکھیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کے لیے ثالثوں (پاکستان، ترکیہ اور مصر) کی مسلسل کوششوں کے بیچ، جنگ کے دوسرے مہینے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی با خبر امریکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی فریق کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں وقت لگ سکتا ہے۔

صورت حال سے با خبر دو ذرائع نے آج ہفتے کے روز انکشاف کیا کہ وائٹ ہاؤس نے اتحادیوں کو خفیہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی توقع رکھیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔ سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان ذرائع نے مزید کہا کہ واشنگٹن کا اندازہ ہے کہ جنگی فوجی سرگرمیاں مزید دو سے چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔

اسی دوران ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ سفارت کاری میں ایک محوری کھلاڑی کے طور پر ابھرے ہیں۔ اس کے باوجود دو با خبر ذرائع نے واضح کیا کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی سفارتی عمل میں شریک ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گذشتہ جمعہ کی شام اشارہ دیا تھا کہ جنگ میں ابھی دو سے چار ہفتے لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ زمینی افواج کے بغیر اپنے تمام اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے ابھی تک جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر کوئی جواب نہیں دیا، لیکن اس نے ایسے پیغامات بھیجے ہیں جو سفارت کاری میں اس کی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔

اپنی طرف سے وٹکوف نے اشارہ دیا کہ وہ رواں ہفتے کے دوران ایرانی فریق کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی توقع رکھتے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ روز امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ اس ہفتے ملاقاتیں ہوں گی۔ تاہم ابھی تک ان مذاکرات کی نوعیت واضح نہیں ہے کیونکہ وٹکوف نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

تاہم امریکی ذرائع نے پہلے انکشاف کیا تھا کہ واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس میں 15 نکات یا شرائط شامل ہیں۔ ان میں ایران کا جوہری ہتھیاروں سے دست بردار ہونا، اپنے میزائل پروگرام کو محدود کرنا، اس کے علاوہ اعلیٰ افزودہ یورینیم عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حوالے کرنا اور خطے میں مسلح گروپوں کی حمایت روکنا شامل ہے۔

دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدے دار نے ان شرائط کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے ان کے مقابلے میں پانچ شرائط کا ذکر کیا ہے جن پر تہران قائم ہے۔ یہ بات تسنیم ایجنسی نے پہلے رپورٹ کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں