شامی صدر احمد الشرع پیر کے روز جرمنی کے دورے کے سلسلے میں برلن پہنچیں گے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے ان کی ملاقات بھی ہو گی۔ یہ بات جرمن حکومت کے ترجمان نے جمعہ کے روز بتائی ہے۔
ترجمان کے مطابق چانسلر اپنے دفتر میں شام کے صدر کا خیر مقدم کریں گے۔ جہاں دونوں کے درمیان پیر کے روز مذاکرات ہوں گے۔ یہ ان کا جرمنی کا پہلا دورہ ہوگا۔
خیال رہے شام کے صدر دسمبر 2024 سے شام میں اس وقت سے بر سر اقتدار ہیں جب بشارالاسد کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔ ان کا دورہ جرمنی اس سے پہلے جنوری میں ہونا تھا مگر شام میں حکومتی فوج اور امریکی حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوجانے سے جرمنی کا دورہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔
احمد الشراع اپنے اس دورے کے موقع پر اکنامک فورم میں شرکت کریں گے۔ جہاں حکومت کی اعلیٰ تجارتی نمائندوں سے ملاقاتیں ہوں گی۔ شام جو ایک طویل خانہ جنگی سے گذرا ہے بد ترین معیشت کا بھی شکار رہا ہے۔اب اسے اپنی معیشت کو سنبھالنے اور تعمیر نو کا بڑا چیلنج درپیش ہے۔
یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے شام پر طویل عرصہ جاری رہنے والی پابندیوں کو ختم کر دیا ہے۔ جس سے بشارالاسد کے بعد ایک بار پھر شام میں معاشی بہتری کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔